لداخ میں مقتول مظاہرین کی آخری رسومات زبردستی صرف قریبی رشتہ داروں کے ذریعے ادا کروائی گئیں

لہہ:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرکے لداخ خطے میں قابض حکام نے لہہ میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے شہریوں کی آخری رسومات زبردستی صرف قریبی رشتہ داروں کے ذریعے ادا کروائیں تاکہ بھارت کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی غم وغصے سے بچا جاسکے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کھرنکلنگ گائوں کے 25سالہ جگمیت دورجے اور ایگو گائوں کے23سالہ اسٹینزین نامگیال کی آخری رسومات اتوار کو لہہ شہر میں بھارتی فوجیوں کی موجودگی میں ادا کی گئیں۔ بھارتی فوجیوں نے حساس مقامات کو خاردار تاروں سے سیل کر دیا تھاجبکہ علاقے میں آج مسلسل چھٹے روز بھی سخت کرفیو نافذ ہے اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ بھارتی فورسز نے آخری رسومات میںلوگوں کو شرکت کی اجازت نہیں دی اورصرف خاندان کے افراد کو شرکت کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کے ظالمانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے جہاں سید علی گیلانی، محمد اشرف صحرائی اور پروفیسر عبدالغنی بٹ سمیت مقبول رہنمائوں کی آخری رسومات زبردستی فوجی پہرے میں اداکروائی گئیں اور عوام کو اپنے رہنمائوں کو رخصت کرنے کے حق سے محروم کردیا گیا۔دیگر دو لداخی شریوںہنو گائوں کے20سالہ رنچن دادول اور سکور بکان گائوں کے46سالہ تسیوانگ تھرچن کی آخری رسومات بھی پیرکو فوجی محاصرے میںاداکی جائیں گی ۔ تسیوانگ تھرچن لداخ اسکائوٹس میں خدمات انجام دے چکے ہیںجنہوںنے1999کی کرگل جنگ میں بھی شرکت کی ہے۔
دریں اثناء قابض انتظامیہ نے لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل کے چیف ایگزیکٹو تاشی گیلسن کو بھی آخری رسومات میں شرکت سے روک دیا جس سے علاقے میںظلم و جبر کے ماحول کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے کانگریس کے رہنما طارق حمید قرہ کے ساتھ مل کر 24ستمبر کو ہونے والی ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جب بھارتی فورسز نے ریاست کا درجہ اور چھٹے شیڈول کا مطالبہ کرنے والے نہتے مظاہرین پر فائرنگ کی تھی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ زبردستی آخری رسومات ادا کروانا اورعوام کو اس میں شرکت کے حق سے محروم کرنااور اختلاف رائے کو دبانا لداخی مزاحمت کوبھارتی قبضے کے خلاف کئی دہائیوں سے جاری کشمیریوں کی جدوجہد کی طرح پھیلنے سے روکنے کے لیے بھارت کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔







