جموں وکشمیر کی نام نہاد اسمبلی بے اختیار اور نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹننٹ گورنرکے تابع ہے: مبصرین
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں نام نہاد قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے ارکان اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ لیفٹیننٹ گورنر کے دائرہ اختیار میں آنے والے محکموں سے متعلق سوالات نہ اٹھائیں جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اہم انتظامی اختیارات لیفٹننٹ گورنر کے پاس ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سرینگر میں منعقدہ اسمبلی اجلاس کے دوران اسپیکر نے جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے رولنگ دی کہ لنگیٹ سے رکن اسمبلی شیخ خورشید کی طرف سے محکمہ داخلہ کے حوالے سے اٹھائے گئے سوال کو حذف کر دیاجاتا ہے۔ ایم ایل اے علاقے میں تشددسے متاثرہ خاندانوں کو SRO-43کے تحت عبوری ریلیف دینے میں تاخیر کی وجوہات معلوم کرنا چاہتے تھے۔عوامی اتحاد پارٹی کی نمائندگی کرنے والے خورشید نے خاص طور پر حکومت سے کہا تھا کہ وہ متاثرین کے لواحقین کو معاوضے کے لیے وقت مقررکرے، لیکن اسپیکر نے کہا کہ اس معاملے پر بات نہیں ہو سکتی کیونکہ محکمہ داخلہ براہ راست لیفٹیننٹ گورنر کے کنٹرول میں ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حکم ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نام نہاد اسمبلی بے اختیار ہے اور نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹننٹ گورنرکے تابع ہے۔ اپوزیشن ارکان نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ منتخب نمائندوں کو مقبوضہ علاقے میں گورننس کی بنیادی نگرانی سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔





