بھارت

متنازعہ قانون شہریت کیخلاف 2020کے فسادات میں ملوث ہونے کا دلی پولیس کا دعویٰ جھوٹا ہے، عمر خالد

نئی دلی: بھارت میں ممتاز اسٹوڈنٹ لیڈر اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق محقق عمر خالد نے کہا ہے کہ 2020میں متنازعہ قانون شہریت پر شمال مشرقی دلی میں ہونے والے فسادات میں ان کے ملوث ہونے کا دلی پولیس کا الزام جھوٹاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عمرخالد نے جو پانچ سال سے زائد عرصے سے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت عدالتی حراست میں ہیں، یہ بات ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپائی کی عدالت کو بتائی جہاں عمر خالد کے خلاف مقدمے کی سماعت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے عدالت میں متنازعہ قانون شہریت کے خلاف پر امن احتجاج کو خفیہ سازشی اجتماعات کے طور پر غلط طریقے سے پیش کیاہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عمر خالد کا یہ بیان ایک دن بعد سامنے آیا ہے جب بھارتی سپریم کورٹ نے دلی پولیس سے عمرخالد، شرجیل امام، گلفشہ فاطمہ اور دیگر مسلم اسکالرز کی ضمانت کی درخواستوں پر جواب داخل کرنے میں ناکامی پر برہمی کا اظہار کیاتھا۔عمر خالد کی پیروی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ تردیپ پیس نے عدالت کو بتایاکہ ریکارڈ پر موجود شواہد کے مقابلے میں استغاثہ کی "خفیہ ملاقاتوں” کے بیانیے کی جانچ نہیں ہوتی۔انہوں نے سوال کیاکی اس میٹنگ کی تصاویر ایک شرکا کے فیس بک پروفائل پر اپ لوڈ کی گئی تھیں تو یہ خفیہ کیسے ہوئیں ؟۔انہوں نے واضح کیاکہ تصاویر میں واضح طور پر عمر خالد اور طالبہ گلفشہ فاطمہ کو مباحثوں میں حصہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس میں متعدد کارکنان اور طلبا بھی شریک تھے ۔انہوں نے عدالت کو بتایاکہ یہ ملاقاتیں متنازعہ قانون کے خلاف پرامن احتجاج پر کھل کر بات کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھیں۔ ان مباحثوں میں نہ تو کوئی جرم تھا اور نہ ہی کوئی اشتعال انگیزی۔ایڈوکیٹ تردیپ پیس نے واضح کیاکہ ان کے موکل کا کردار قانونی اور جمہوری احتجاج تک محدود تھا۔انہوںنے مزیدکہا کہ عمر خالد کے فسادات بھڑکانے میں اہم کردار کے بارے میں نئی پولیس کا موقف بھی درست نہیں ہے کیونکہ عمر خالد کی تقاریر کے ویڈیو شواہد میں اسے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے دکھایاگیاہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button