کانگریس کی امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے پر مودی حکومت پر کڑی تنقید
ممکنہ تجارتی معاہدہ بھارت کیلئے درد سر بن گیاہے، جے رام رمیش
نئی دلی: بھارت میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے پر مودی حکومت کو کڑی تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ یہ معاہدہ اب بھارت کے لیے ایک تکلیف دہ تجربہ بن گیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرایک پوسٹ میں کہاہے کہ مودی حکومت نے دعویٰ کیاتھا کہ بھارت رواں سال نومبرمیں کواڈ(امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت کے گروپ)سمٹ کی میزبانی کرے گا، لیکن اب ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ اب ایک وقت یہ آ گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ سب سے پہلے تجارتی معاہدہ کرنے والوں میں بھارت ہوگاتاہم یہ نام نہاد معاہدہ اب ایک مسئلہ بن گیا ہے۔جے رام رمیش نے کہاکہ امریکہ کیلئے بھارت کی برآمدات مسلسل کم ہو رہی ہیں اور ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ امرکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلسل 57ویں بار دوہرایا ہے کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ تجارت کے ذریعے رکوائی ۔ کانگریس لیڈر نے ٹویٹ میں صدرٹرمپ کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں امریکی صدر نے دعوی کیا کہ انہوں نے تجارت اور ٹیرف کے ذریعے بھارت اورپاکستان کے درمیان جنگ رکوائی ۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کی طرف سے بھارت پاکستان جنگ رکوانے اور جنگ کے دوران 7طیارے گرائے جانے کا اپنا دعویٰ دوہرایا تھا ۔کانگریس پارٹی نے صدر ٹرمپ کے دعوئوں پر مسلسل خاموشی اختیار کر نے پر وزیر اعظم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ خود ساختہ 56انچ کا سینہ اب پوری طرح سمٹ چکا ہے اور بے نقاب ہو گیا ہے۔





