کشمیری تارکین وطن

وقت گزرنے سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو سلب نہیں کیا جا سکتا: ڈاکٹر فائی

استنبول: ورلڈ فورم فارپیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا ہے کہ وقت گزرنے سے اقوام متحدہ کی طرف سے جموں و کشمیر کے عوام کو دیے گئے حق خودارادیت کو سلب نہیں کیا جا سکتا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈاکٹر فائی 8تا 9 نومبر 2025کو استنبول کی صباحتین زیم یونیورسٹی میں جسٹس ڈیفنڈرز سٹریٹیجک سٹڈیز سنٹر کے زیر اہتمام نویں سالانہ بین الاقوامی کانگریس سے خطاب کر رہے تھے۔کانفرنس میں 14ممالک کے ماہرین تعلیم، سفارت کاروں، صحافیوں اوردانشورں نے شرکت کی۔ڈاکٹر فائی نے”امن و انصاف کی جدوجہد میں بین الاقوامی تنازعات کے حل کے راستے: جنوبی ایشیا میں بحران کے حل کی تلاش” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد کی بنیاد مذہب پر نہیں بلکہ انصاف، امن اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج حق خودارادیت کے عالمی طور پر تسلیم شدہ بین الاقوامی اصولوں پرہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری جن دستاویزات پر بھروسہ کرتے ہیں وہ مساجد میں نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مغربی ممالک نے تیار کیے تھے۔ڈاکٹر فائی نے بڑی عالمی طاقتوں کی منافقت کی مذمت کی جو اپنے مفاد کے اخلاقی اصولوں کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ طاقتیں بعض خطوں میں انصاف کی حمایت کرتے ہیں لیکن بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مظالم پر خاموش رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ ناانصافی کے بیج بوکر انتہا پسندی کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔انہوں نے کہا کہ ساڑھے سات دہائیاں گزرنے کے باوجود کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادیں قابل عمل ہیں کیونکہ وقت بین الاقوامی معاہدوں کو ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر وقت اقوام متحدہ کے کشمیر کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کو کالعدم کر سکتا ہے تو پھر اقوام متحدہ کا چارٹر معنی ہی کھو دے گا۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری میڈیا بلیک آئوٹ کو اجاگرکرتے ہوئے ڈاکٹر فائی نے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی رپورٹوں کا حوالہ دیا کہ وہاں کا مقامی میڈیا تباہی کے دہانے پر ہے ۔ انہوں نے جینوسائیڈ واچ کے ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن کا حوالہ دیا جنہوں نے خبردار کیا ہے کہ کشمیر نسل کشی کے دہانے پر ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا میڈیا کو دبانا اور شفافیت سے انکار مقبوضہ علاقے میں انسانیت کے خلاف اس کے جرائم کو چھپانے کی دانستہ کوشش ہے۔ڈاکٹر فائی نے کہا کہ جدید مواصلات اور میڈیا کے ذریعے عالمی بیداری نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوسوو، مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں بین الاقوامی مداخلت ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے مظالم پر عوامی غم و غصے کی وجہ سے ہوئی تھی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button