ہریانہ :دہلی دھماکے کے بعد الفلاح یونیورسٹی کے 200 ڈاکٹر اور عملہ زیر تفتیش
”ای ڈی“ نے الفلاح گروپ کے چیئرمین جواد صدیقی کو بھی گرفتار کر لیا

نئی دہلی: بھارتی ریاست ہریانہ کے گنجان آباد شہر فرید آباد میں واقع الفلاح یونیورسٹی کے 200 سے زائدڈاکٹروں اور عملے کے ارکان کو دہلی کے لال قلعے کے قریب 10 نومبر کو ہونے والے کار بم دھماکے کے بعد سخت پوگچھ کا سامنا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی تحقیقاتی یجنسیاں کیمپس کی متواتر چیکنگ اور وہاں موجود عملے کوہراساں کر رہی ہیں جس سے کئی ملازمین یہاں سے چلے جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ایجنسیاں کیمپس کے باہر ہاسٹلز اور کرائے کی رہائش گاہوں کی تلاشی بھی لے رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اب تک کل ایک ہزار سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔
ایک 35 سالہ آنگن واڑی کارکن جس نے ڈاکٹر عمر نبی کو ایک کمرہ کرائے پر دیا تھا کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
الفلاح میڈیکل کالج میں مریضوں کی آمد بھی تنزلی کا شکار ہو چکی ہے ، کالج میں روز تقریبا دو سو مریض آتے تھے لیکن یہ تعداد کم ہو کر 100مریضوں تک آ گئی ہے۔ بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منگل کو الفلاح گروپ کے چیئرمین جواد احمد صدیقی کو بھی گرفتار کر لیا ۔






