بھارت کا خود ساختہ "وشوا گرو”کا دعوی ایک بار پھر بے نقاب
جی سیون جیسے عالمی پلیٹ فارم پر امریکی تحفظ اور سرپرستی کیلئے بے بسی سے منتیں کرتا رہا

نئی دہلی:جی7 سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والی ملاقات اور اس دوران سامنے آنے والے بیانات نے بھارت کے اسٹریٹجک خودمختاری کے دعوئوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر خود کو "وشوا گرو” اور ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے والا بھارت اب بھی اہم سلامتی اور تزویراتی معاملات میں بیرونی حمایت کا محتاج دکھائی دیتا ہے۔نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان نے خاصی توجہ حاصل کی جس میں انہوں نے کہا کہاگر بھارت پر حملہ ہوتا ہے اور مودی لیڈر ہیں تو ہم مدد کے لیے موجود ہوں گے، کسی معاہدے کی ضرورت نہیں، لیکن اگر کوئی اور لیڈر ہوا تو میں نہیں جانتا۔ مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کی یہ سرپرستانہ "ذاتی یقین دہانی” بھارت کے امریکی رحم و کرم پر شرمناک انحصار کو بے نقاب کرتی ہے۔یہ بیان بھارت اور امریکہ کے تعلقات کی نوعیت کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی یقین دہانیاں اس تاثر کو تقویت دیتی ہیں کہ نئی دہلی اپنی نام نہاد اسٹریٹجک خودمختاری کے باوجود علاقائی سلامتی کے معاملات میں واشنگٹن کی حمایت کو انتہائی اہم سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور چین جیسے علاقائی چیلنجز کے تناظر میں بھارت کی دفاعی اور سفارتی حکمت عملی بڑی حد تک امریکی تعاون سے جڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خلیج عمان میں امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد بعض بھارتی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے بھی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسے بھارتی شہریوں کے تحفظ اور مفادات کے حوالے سے زیادہ موثر مقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف بھارت خود کو عالمی سطح پر ایک خودمختار اور بااثر طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب اہم علاقائی اور بین الاقوامی معاملات میں امریکی حمایت اور ضمانتوں پر انحصار اس دعوے کے برعکس تاثر پیدا کرتا ہے۔ ان کے مطابق حقیقی اسٹریٹجک خودانحصاری کا تقاضا یہ ہے کہ ریاستیں اپنی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے فیصلوں میں بیرونی سہاروں پر کم سے کم انحصار کریں۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ کیا نئی دہلی نے واشنگٹن کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کے نتیجے میں اپنی روایتی اسٹریٹجک خودمختاری کو محدود کر دیا ہے یا یہ تعلقات بھارت کی وسیع تر علاقائی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ تاہم ناقدین کے مطابق حالیہ واقعات نے ایک بار پھر "رونے دھونے والے بھارت” کی وہ تصویر دنیا کو دکھائی ہے جس نے خودمختاری کے بجائے انحصار اور تابعداری کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔






