شیخ حسینہ واجد حکومت کے خلاف طلبہ تحریک کے نمایاں رہنما عثمان ہادی قاتلانہ حملے میں جاں بحق
ڈھاکہ: مفرور شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف طلبہ تحریک کے نمایاں رہنما شریف عثمان ہادی قاتلانہ حملے میں جاں بحق۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق شریف عثمان ہادی کو 12دسمبر کو ڈھاکہ کے علاقے پلتن میںرکشہ میں سفر کے دوران فائرنگ کا نشانہ بنایاگیا تھا۔ بنگلہ دیش میڈیا کے مطابق شدید زخمی حالت میں شریف عثمان ہادی چھ روز تک زندگی وموت کی جنگ میں مبتلا رہے ، بعد ازاں انہیں علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیاگیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ بنگلہ دیش کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم بنگلہ دیش چھاترا لیگ کے رہنما فیصل کریم مسعود عرف دائود خان کوشریف عثمان ہادی کے قتل کا مرکزی ملزم قرار دیاہے۔ تفتیشی حکام نے شبہ ظاہر کیاہے کہ مرکزی ملزم واقعے کے بعد بھارت فرار ہو گیا ہے۔ بنگلہ دیش میڈیا کے مطابق شریف عثمان پر حملہ ایسے دن کیا گیا جب بنگلہ دیش میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیاگیا تھا ۔اس قتل کو ماہرین ایک واضح سیاسی پیغام قرار دے رہے ہیں۔ شریف عثمان ہادی کے انتقال کی خبر ملتے ہی پوراڈھاکہ بھارت مخالف نعروں سے گونج اٹھا ۔
ہزاروں کی تعداد میں بنگلہ دیشی شہریوں نے بھارتی سفارتخانے کے سامنے احتجاج اور پتھرا ئو کیا۔ بھارت نواز اخباروں کے دفاتر نزر آتش کر دئے گئے ۔مظاہرین نے بھارت اور عوامی لیگ کے خلاف شدید نعرے لگائے اور مشتعل مظاہرین نے سڑکیں بلاک کردیں۔واضح رہے کہ شریف عثمان ہادی بھارت نواز شیخ حسینہ واجد حکومت کے خلاف طلبہ تحریک کے دوران نمایاں ہوئے تھے۔ انہوں نے ڈھاکہ 8حلقے سے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ جمعہ کو بیجوئے نگر میں انتخابی مہم کے دوران موٹرسائیکل سوار حملہ آور نے انہیں گولی ماردی تھی ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملہ عبوری حکومت کو آزاد انہ اور شفاف انتخابات سے روکنے کی ایک کوشش ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق یہ حملہ بھارتی ایجنسیوں کی جانب سے بنگلہ دیش میں عوامی اور خودمختار سیاست کو ابھرنے سے روکنے کی ایک گھنائونی سازش بھی ہے۔ چیف ایڈوائزر بنگلہ دیش محمد یونس نے شریف عثمان ہادی کی شہادت پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہاہے کہ ملک میں قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔محمد یونس نے شریف عثمان ہادی کے قتل میں ملوث عناصر کو کڑی سزا دلوانے اور متاثرہ خاندان کوانصاف کی فراہمی کا عزم ظاہر کیا ہے ۔






