بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ : کسانوں اورماہرمعاشیات کا شدید تحفظات کا اظہار

نئی دلی:بھارت کے دارلحکومت نئی دلی میں منعقدہ سیمینار میں بھارت ۔امریکہ مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے پر کسان رہنمائوں اور ماہرمعاشیات نے شدید تحفظات کا اظہار کیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آل انڈیا کسان سبھا کے جنرل سکریٹری وجو کرشنن نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ بھارت کی خودمختاری، زراعت ، خوراک اور صحت کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت ایک سامراجی طاقت کے دبائو میں آ کر ایسی پالیسی سازی کر رہی ہے، جس سے کسانوں کے مفادات متاثر ہوں گے۔سیمینار میں ممتاز ماہر معاشیات اورجواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ایمریٹس پربھات پٹنائک نے بھی خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آئندہ پانچ برسوں میں امریکہ سے 500 ارب ڈالر کی درآمدات کے ہدف خاص طور پر خام تیل کے درآمدی بل اور زرِ مبادلہ کے ذخائر پر اس کے ممکنہ اثرات اور معاشی مضمرات کیا ہوں گے۔سنٹر فار ڈبلیو ٹی او اسٹڈیزکے سابق سربراہ بسواجیت دھرنے خبردار کیا کہ مجوزہ معاہدہ بھارت کی ڈیجیٹل پالیسی، ڈیٹا خودمختاری اور املاکِ دانش کے قوانین پر سمجھوتے کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر ادویات سے متعلق سخت شرائط تسلیم کی گئیں تو سستی جینرک دوائوں تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔ کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ امریکی زرعی لابی اس معاہدے کی حامی ہے کیونکہ وہ بھارت میں فصلوںکی کم از کم امدادی قیمت اور دیگر زرعی تحفظاتی اقدامات کو کمزور دیکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں اور زرعی شعبے، غذائی تحفظ اور صحت عامہ کے مفادات کو مقدم رکھا جائے۔







