بھارت

ایک دن، 11 واقعات: بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد پر نئی بحث

نئی دلی:
بھارت کی مختلف ریاستوں میں ایک ہی دن پیش آنے والے متعدد واقعات نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت، فرقہ وارانہ کشیدگی اور ہندو انتہاپسندوں کے تشدد کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سوشل میڈیا پروائرل اور مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق بھارت میں مودی کی فرقہ پرست حکومت کے دور میں اقلیتیں، نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور کمزور طبقات کووحشیانہ تشدد اور امتیازی سلوک کا مسلسل سامنا ہے ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ واقعات بھارت میں اقلیتوں، نچلی ذاتوں اور کمزور طبقات کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کی عکاسی کرتے ہیں ۔اطلاعات کے مطابق ریاست ہماچل پردیش میں ہندوتوا انتہاپسندوں میں مہلک ہتھیار تقسیم کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اسی طرح نئی دلی کے معروف ہوٹل اشوکا میں ایک میتئی خاتون نے بی جے پی کے ایم ایل اے سوروخائبم راجن سنگھ پر نامناسب پیشکش (ایک رات ساتھ گزارنے کے عوض 50ہزار روپے کی پیشکش)کا الزام لگایاہے ، جبکہ اسی مقام پر اس سے قبل سابق اسپیکر تھوکھچوم ستیہ برت سنگھ پر بھی اسی نوعیت کے الزامات سامنے آئے تھے۔ ریاست مہاراشٹرا کے شہر پونے میں ایک ہندو خاتون بپاشا مینیکم کی طرف سے ایک مسلمان لڑکے کے ساتھ بدسلوکی اور اسے زبردستی گوبر کھلانے کا واقعہ پیش آیا ہے ۔راجستھان کے شہر بھیواڑی میں 28سالہ مسلم نوجوان عامر کو مبینہ طور پر گائے منتقل کرنے کے شبہ میں ہندوتوابجرنگ دل کے بلوائیوں د نے تعاقب کر کے اسے گولی مار کر قتل کر دیا۔اترپردیش کے شہر لکھنو امیںایک دلت نوجوان سورج گوتم کو ہیپی ہولی کہنے پر مبینہ طور پر چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔ریاست بہار کے علاقے مدھوبنی میںروزے دار مسلم خاتون روشن خاتون کو ہندوتواہجوم نے مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ اتر پردیش کے شہرغازی پور میں 60سالہ آس محمد کو ہولی کے تنازع کے بعد پولیس کی حراست میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں گولی مار کر قتل کردیاگیا۔دارلحکومت نئی دلی کے علاقے اتم نگرمیں ایک ہندو انتہاپسند نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی ،جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ۔اسی علاقے میں ایک مسلمانوں کو ہندو انتہاپسندوں نے لوہے کی سلاخوں سے غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں انہیں تہاڑ جیل بھیج دیا گیا۔سوشل میڈیا پروائرل ایک اور رپورٹ کے مطابق ذات پات کے تعصب کے واقعے میں نچلی ذات کے ہندوخاندان کی طرف سے اونچی ذات کے ہندوئوں کے مندر میں جانے پر دو ماہ کے ایک بچے کو قتل کر دیا گیا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک ہی دن میں مختلف بھارتی ریاستوں سے پیش آنے والے یہ انسانیت سوز واقعات بھارت میں بڑھتی ہوئی سماجی کشیدگی، فرقہ وارانہ تقسیم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موثر کارروائی کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ان واقعات سے ظاہر ہوتاہے کہ بھارت میں اقلیتوں اور کمزور طبقات کے تحفظ کے حوالے سے صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button