مقبوضہ جموں و کشمیر

جنیوا :ماحولیاتی خودمختاری اور انسانی حقوق: پینل ڈسکشن میں زیر قبضہ علاقوں کے حق خودارادیت پر زور

جنیوا: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ ایک پینل ڈسکشن کے مقررین نے ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف موثر اور دیرپا اقدامات کیلئے مظلوم یا غیر ملکی قبضے کے شکار کمیونٹیز کو اپنے سیاسی فیصلے خود کرنے کاحق دینے پر زوردیاہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، "ماحولیاتی انصاف، انسانی حقوق اور حق خود ارادیت: ایک انٹرسیکشنل فریم ورک” کے عنوان سے پینل ڈسکشن میں شریک ماہرین ماحولیات، انسانی حقوق کے کارکنوں اور قانونی ماہرین نے جائزہ لیاکہ کس طرح حق خود ارادیت سے انکار سے جموں و کشمیر جیسے متنازعہ علاقوں میں موسمیاتی خطرات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔تقریب کی نظامت کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر کے کنوینر غلام محمد صفی نے کی جبکہ مقررین میں کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی، انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے ماحولیاتی محقق طلحہ طفیل بھٹی، سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز کے عبدالرحمان اورحریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے سیکرٹری جنرل ایڈووکیٹ جنرل پرویز شاہ شامل تھے۔ غلام محمد صفی نے کہا کہ جموں وکشمیر میں موسمیاتی بحران کو سیاسی تسلط اور ساختی تشدد کے وسیع تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی فوجی تسلط لوگوں کو نہ صرف ان کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت بلکہ قدرتی ماحول کے تحفظ اور انتظام کی صلاحیت سے بھی محروم کر دیاہے ۔ الطاف حسین وانی نے ماحولیاتی خودمختاری کو انسانی حقوق سے متعلق قانونی بنیادوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ شہری اور سیاسی حقوق اور اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کا آرٹیکل 1لوگوں کو آزادی سے اپنی معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی تسلط کے شکار جموں و کشمیر کے عوام اپنی سیاسی حیثیت کا تعین کرنے اور اپنے گلیشیئرز، جنگلات اور آبی وسائل کو سنبھالنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ماحولیاتی محقق طلحہ طفیل بھٹی نے کوہ ہمالیاکے خطے کو جنوبی ایشیا کا "واٹر ٹاور” قراردیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ، چناب اور جہلم کو پانی فراہم کرنے والے گلیشیئرپر تقریبا ڈیڑھ ارب لوگوں کی زندگی کا انحصار ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں عسکریت پسندی موسمیاتی موافقت کو فروغ دینے کے بجائے ماحولیاتی تباہی کو تیز کر رہی ہے۔عبدالرحمن نے اگست 2019میں بھارت کی جانب سے دفعہ 370اور 35Aکی منسوخی کے ماحولیاتی نتائج کو اجاگر کیا ۔ایڈووکیٹ پرویز شاہ نے "ماحولیاتی نسل امتیاز”پرسخت تشویش کا اظہار کیااورکہاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے بے گھر ہونے والے شہریوں کواکثرسکیورٹی خطرات کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔مقررین نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس بات کو تسلیم کریں کہ موثر اور بامعنی ماحولیاتی حل کے لیے زیر قبضہ علاقوں بشمول جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کا احترام اور ان کی سیاسی خودمختاری کی بحالی ضروری ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button