بھارت کایکطرفہ طورپر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے
تنازعہ کشمیر کامنصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے،اسحاق ڈار
منیلا: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہاہے کہ بھارت کی طرف سے یکطرفہ طورپر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
، مقبوضہ جموں وکشمیرتنازع کاحل ہی جنوبی ایشیامیں پائیدارامن کی بنیاد ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی اور روزگار کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، پاکستان مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع پاکستان اور بھارت کے درمیان علاقائی عدم استحکام کا بنیادی مسئلہ ہے، جس کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔انہوں نے دہشت گردی کو پوری دنیا کے لیے مشترکہ خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی۔ 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کیا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان اور خطے کے لیے ایک سنگین سکیورٹی چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی، فتنہ ہندوستان اور بی ایل اے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، پاکستان کی افغان طالبان حکومت سے واحد توقع ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔اسحاق ڈار نے اے آر ایف کے رکن ممالک سے بھی اس حوالے سے موثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام، تعاون کیلئے پرعزم ہے، پاکستان نے منیلاپلان آف ایکشن2036پر موثرعملدرآمدکی حمایت کا اعادہ کیا ۔






