احتجاجی طلباءکیخلاف کوئی قانونی کارروائی نہ ہونے کی صورت میں بھوک ہڑتال ختم کردوں گا، وانگ چک

نئی دلی: ماحولیاتی کارکن سونم وانگ چک نے کہا ہے کہ اگر حکومت یہ یقین دلائے کہ نیٹ پیپر لیگ پر احتساب کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کردیں گے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سونم وانگ چک ،جنہیں دلی پولیس نے چند روز قبل جنتر منتر پر دوران بھوک ہڑتال زبردستی ہسپتال منتقل کیاتھا ، نے کہا کہ حکومت انہیں یہ واضح یقین دہانی کرائے کہ کسی بھی نوجوان احتجاجی کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ طلباءایک منصفانہ اور جواب دہ نظام تعلیم کے لیے سراپا احتجاج ہیں لہذا وہ انتقامی کارروائی کے مستحق نہیں ہیں۔ وانگ چک نے کہا کہ ان سے 65ارکان پارلیمنٹ نے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کی ہے لیکن ایسا نوجوانوں کی قیمت پر ہرگز نہیں ہوگا۔ وانگ چک 28جون سے بھوک ہڑتال پر ہیں ۔
دریںاثنا حزب اختلاف سے تعلق رکھنے رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کے ایک وفد نے وانگ چک اور انکی اہلیہ گیتا نجلی سے ہسپتال میں ملاقات کی۔ وفد میں ویویک کنٹھا، ساگریکاگھوش ، جان بریٹاس اور دیگر شامل تھے۔انہوںنے وانگ چک کو بتایا کہ ان کا پیغام پورے ملک میں گونج رہا ہے اور وہ پارلیمنٹ میںبھی اسے اٹھائیں گے۔







