مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارتی حکومت نے خرم پرویزکو کئی برس جیل میں رکھ کرسیاسی انتقام کا نشانہ بنایا، حسن البنا

اسلام آباد:  کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے رہنما حسن البنا نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کے کشمیری کارکن خرم پرویز کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا اور کئی برس تک غیر قانونی طورپر جیل میں رکھا ۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق خرم پرویز کو گزشتہ روز ضمانت پر دہلی کی روہنی جیل سے رہا کیا گیا ۔ انہیں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے ”این آئی اے “ نے مارچ 2023 میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون”یواے پی اے“ کے تحت درج ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا تھا۔
حسن البنا نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت نے خرم پرویز کو انتقامی کارروائی کے تحت غیر قانونی طور پر گرفتار کیا تھا۔ انہوںنے کہا کہ انسانی حقوق کے معروف علمبردار کو بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے خلاف آواز اٹھانے اور ان پامالیوں کو دستاویزی شکل دینے کی پاداش میں انتقام کا نشانہ بنایا گیا جو بی جے پی کی ہندو توا حکومت کا ایک پرانا وطیرہ ہے۔
حسن البنا نے دلی ہائیکورٹ کی طرف سے خرم پرویز کی رہائی کے لیے عائد کردہ شرائط پر شدید تشویش کا اظہار کیا جن میں پاسپورٹ جمع کرانا، نئی دہلی میں ہی قیام کرنا اور میڈیابیانات سے دور رہناشامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شرائط انسانی حقوق کے کارکن کو ایک چھوٹی جیل سے بڑی جیل میں منتقل کرنے کے مترادف ہیں۔حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنما نے کہا کہ بھارتی حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبر و استبداد کے خلاف آٹھنے والی آوازوں کو غیر قانونی گرفتاریوں کے ذریعے دبانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو گی۔
حسن البنا نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ خرم پرویز اور دیگر کارکنوں پر عائد پابندیاں ہٹانے ا ور مسئلہ کشمیر کو اپنی پاس کردہ قرار دادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button