پاکستان

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، لاکھوں بچوں اور خواتین کو غذائی قلت کا خدشہ

پشاور:
بڑھتے ہوئے آبی بحران کے باعث تیزی سے انسانی بقا کی ہنگامی صورتحال پیدا ہو رہی ہے ۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے تاریخی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں پاکستان میں لاکھوں بچوں اور خواتین کو غذائی قلت، جسمانی نشوونما میں رکاوٹ اور صحت کے ناقابلِ تلافی نقصانات کاباعث بن سکتی ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ماہرین نے کہاہے کہ اگر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو پاکستان میں غذائی قلت کا چیلنج اگلے چند سال میں انتہا کو پہنچ سکتاہے جو کہ انسانی حقوق کا ایک سنگین مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریبا 40فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں جو کہ پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دائمی بھوک اور فاقہ کشی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ایک خاموش کیفیت ہے۔عالمی سطح پر غذائی قلت ہر سال تقریبا 2.7 ملین نوجوانوں کی جان لے لیتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر عالمی برادری اور ورلڈ بینک نے بھارت کو اس کے غیر قانونی فیصلے سے نہ روکاتوموسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور بڑھتی ہوئی آبادی کے دبائو کا شکار ملک غذائی نظام کو پہنچنے والے نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ طبی ماہرین، ماہرین معاشیات اور تجزیہ نگاروں کی ایک بڑی تعداد نے خبرادرکیا ہے کہ بھارت ی جانب سے مغربی دریائوں کے بہائو میں مسلسل مداخلت محض ایک پالیسی تنازع نہیں بلکہ غذائی تحفظ اور عوامی صحت کیلئے براہِ راست خطرہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دریائوں کے بہا ئومیں کمی کا سب سے پہلا نقصان زراعت کو ہوگا جس سے فصلوں کی پیداوار کم ہوگی، خوراک کی فراہمی کم ہو جائے گی اور قیمتیں غریبوں کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی۔ طبی ماہر ڈاکٹر ملک ریاض خان کا کہنا ہے کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو اس کے نتائج بتدریج نہیں بلکہ فوری اور تباہ کن ہوں گے۔ دریائے سندھ کے آبپاشی نظام پر منحصر پاکستان کا زرعی شعبہ اپنی پانی کی ضروریات کے 80فیصد سے زیادہ کیلئے ان دریاں کے نظام پر انحصار کرتا ہے۔ پانی کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ گندم، چاول اور کپاس جیسی بنیادی فصلوں کے ساتھ ساتھ پھلوں اور لائیو اسٹاک کے لیے بھی خطرہ ہے جو لاکھوں دیہی گھرانوں کی گزر بسر کا ذریعہ ہیں۔ ماہرینِ معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ اس کے اثرات صرف کھیتوں تک محدود نہیں رہیں گے۔قومی مجموعی پیداوار میں زراعت کا حصہ تقریبا 23 فیصد ہے اور یہ افرادی قوت کے تقریبا 38فیصد کو روزگار فراہم کرتی ہے، لہذا پیداوار میں کمی اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، وسیع پیمانے پر بے روزگاری اور غربت میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔1960میں طے کیاگیا سندھ طاس معاہدہ تنازعات کے دور میں بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان تعاون کی ایک مثال رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کا یکطرفہ خاتمہ نہ صرف دو طرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کو غیر مستحکم کرنے کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔ ورلڈ بینک جیسے اداروں سے عالمی مداخلت کے مطالبات بڑھ رہے ہیں جو اس معاہدے کے ضامن ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button