مقبوضہ جموں و کشمیر

وقف ایکٹ کی آڑ میں کشمیریوں کی زمینوں اور مذہبی اثاثوں پر بھارتی قبضے کی منظم مہم تیز

سرینگر: مودی بھارتی حکومت نے وقف ترمیمی ایکٹ 2025کی آڑ میں غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کی زمینوں، مساجد، مزارات اور گوردواروںسمیت مذہبی مقامات اور ادارہ جاتی ڈھانچے پر کنٹرول حاصل کرنے کی منظم مہم تیز کر دی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظوری کے بعد قانون بن جانے والے وقف ترمیمی ایکٹ کے ذریعے وادی کشمیر میں زمینوں کی ملکیت، میوٹیشن ریکارڈز، ٹائٹل ویری فکیشن، مسجد کمیٹیوں کے ڈھانچے، مسالک، ائمہ، خطبا، متولیوں، آمدن، اخراجات، بینک اکائونٹس اور فنڈنگ کے ذرائع تک کو حکومتی نگرانی میں لایا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ عمل زمین کے ساتھ جڑے پورے سماجی و مذہبی نظام کو کنٹرول کرنے کی کوشش ہے۔سیاسی ماہرین کشمیر ڈویژن میں مساجد، مزارات اور گوردواروں کی بڑے پیمانے پر جانچ اور تصدیقی سروے کو محض انتظامی اقدام کے بجائے ایک مربوط حکمت عملی قرار دے رہے ہیں جس کا مقصد زمین، وسائل اور مذہبی اداروں کو ریاستی نگرانی میں لانا ہے۔اطلاعات کے مطابق UMEEDایکٹ 2025 کے تحت وقف جائیدادوں کی مرکزی رجسٹریشن اور ملک گیر نگرانی نے مقامی ملکیت کے تصور کو کمزور کر دیا ہے۔ دسمبر 2024میں جموں و کشمیر میں 32ہزار 533 وقف جائیدادیں رجسٹرڈ تھیں جو دسمبر 2025تک کم ہو کر 25ہزار 293رہ گئیں،جس سے تقریبا 22 فیصد کمی ظاہر ہو تی ہے ، جسے ناقدین جائیدادوں کے اخراج یا ان کی حیثیت میں تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے دسمبر 2025میں کہا تھا کہ تقریبا 7ہزار وقف جائیدادیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں غائب ہو چکی ہیں، جبکہ پورے بھارت میں ساڑھے3لاکھ سے زائد وقف جائیدادوں کا ریکارڈ موجود نہیں ہے ،جو اس پورے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ UMEEDپورٹل پر 6دسمبر 2025تک جموں و کشمیر وقف بورڈ کی جانب سے پراسیس کی گئی 25ہزار 293جائیدادوں میں سے 99فیصد سے زائد کو منظور کر لیا گیاتھا، جو مجموعی تعداد میں کمی کے ساتھ واضح تضاد پیدا کرتا ہے۔
ادھر جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے چار صفحات پر مشتمل سوالناموں کے ذریعے ائمہ، خطبا، متولیوں، مذنین اور مسجد انتظامیہ کی مکمل ذاتی و مالی پروفائلنگ کی جا رہی ہے، جس میں آدھار، پین، خاندانی کوائف، اثاثے، فون ریکارڈ، سوشل میڈیا سرگرمیاں، سفری تاریخ اور موبائل آئی ایم ای آئی تک شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سب اقدامات کشمیریوں کی زمینوں، مذہبی اداروں اور قیادت پر خاموش اور مرحلہ وار قبضے کی ایک مربوط پالیسی کا حصہ ہیں۔ وادی کشمیر جہاں مسلم آبادی 97فیصد سے زائد ہے اور ہزاروں مساجد و مزارات موجود ہیں، اس عمل کا مرکزی ہدف بنی ہوئی ہے، جبکہ مندروں اور گرجا گھروں پر نسبتاً کم توجہ مرکوز ہے جس سے اس پالیسی کے یکطرفہ اطلاق ظاہر ہوتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button