مودی کو یورپ میں احتجاجی مظاہروں کا سامنا
مظاہرین کی خالصتان کے حق میں اور بھارتی جبر کے خلاف نعرہ بازی

دی ہیگ : بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو یورپ کے دورے کے دوران خالصتان کے حامیوں کی طرف سے شدید احتجاج کا سامنا ہے، جبکہ سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ ان کے ہالینڈ کے دورے کوبڑھاچڑھا کر پیش کیاگیا جس کے خاطر خواہ نتائج نہیں ملے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق خالصتان ریفرنڈم کے کارکنوں نے مودی اور اقلیتوں بالخصوص سکھوں کو نشانہ بنانے والی بھارتی پالیسیوں کے خلاف سویڈن کے شہر گوتھنبرگ اور ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل اور پرمجیت سنگھ پما سمیت بیرون ملک سکھ کارکنوں کے خلاف سازشوں کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین 16 اور 17 مئی کی درمیانی شب گوٹھنبرگ میں ہوٹل گوتھیا ٹاورز کے باہر جمع ہوئے، مودی کے خلاف نعرے لگائے اور ان کی حکومت پر ظلم و جبر اور ہراسانی کا الزام لگایا۔ مظاہرین نے بھارتی پنجاب میں سکھ کسانوں کی حالت زارکو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ معاشی پالیسیاں مقامی کمیونٹیز کی قیمت پر کارپوریٹ گروپوں کو فائدہ پہنچا رہی ہیں۔اسی طرح کے مظاہرے دی ہیگ میں بھی ہوئے جہاں خالصتان کے حامیوں نے خالصتان کے حق میں اور بھارتی ریاستی جبر کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے مختلف ملکوں میں سکھ کارکنوں کو نشانہ بنانے اور اختلاف رائے کو دبانے پر نئی دہلی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

دریں اثناءتجزیہ کاروں نے کہا کہ مودی کے ہالینڈ کے دورے کو بھارتی میڈیا نے ایک بڑی سفارتی پیش رفت کے طور پر پیش کیا لیکن حقیقت میں علامتی اعلانات اور معمول کے معاہدوں سے ہٹ کرکوئی بڑی پیش کش نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد اسٹرٹیجک پارٹنرشپ اور 2026-2030 کے روڈ میپ میں تجارت، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری میں موجودہ تعاون کا اعادہ کیاگیا ہے۔مبصرین نے بتایاکہ دورے کے دوران سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت اور گرین ہائیڈروجن سے متعلق سودے سمیت جن 17 معاہدوں کا اعلان کیا گیا، وہ ٹھوس معاہدوں کے بجائے محض عزم کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت خود انحصاری کے دعوﺅں کے باوجود غیر ملکی ٹیکنالوجی اور مہارت پر بہت زیادہ انحصار کرتا رہا۔تجزیہ کاروں نے کہا کہ نئی دہلی ٹیکنالوجی، توانائی اور تجارت کے شعبوں میں وسیع تعاون کے ذریعے امریکہ پر انحصار کم کرنے کی کوشش میں تیزی سے یورپی یونین کی طرف بڑھ رہا ہے۔سیاسی مبصرین نے کہا کہ یورپ میں مظاہرے مودی حکومت کی پالیسیوں خاص طور پر اقلیتوں، کسانوں اور اختلافی آوازوں کو دبانے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید جبکہ بیرون ملک بھارت کے بڑھتے ہوئے سفارتی چیلنجوں کی عکاسی کرتے ہیں۔







