ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس2026 :مودی کے بھارت میں صحافتی آزادی کی صورتحال مزید ابتر

پیرس: پیر س میں قائم صحافیوں کے حقوق کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرزنے سال 2026 کا ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس جاری کردیا ہے، جس میں بھارت کی درجہ بندی میں تشویشناک حد تک تنزلی دیکھی گئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آر ایس ایف کی رپورٹ میں 180ممالک کی فہرست میں بھارت کو157ویں نمبر پررکھا گیا ہے، جبکہ گزشتہ سال بھارت 151 پوزیشن پر تھا جس سے مزید 6درجے تنزلی ظاہر ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں مودی حکومت کے دور میں صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مقدمات، دھمکیوں ، آن لائن ہراسگی ،گرفتاریاں اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے میڈیا ہائوسز پر پابندی وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے بھارت کا عالمی تشخص بڑی حد تک متاثر ہوا ہے۔رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز کی رپورٹ نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے بھارت کے دعوے پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں بھارت کی تنزلی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر صحافیوں کے خلاف تشدد اور سینسر شپ میں اضافے پر سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔اس فہرست میں مجموعی طور پر 180ممالک کا جائزہ لیا گیا، جس میں بھارت کی پوزیشن اب کئی افریقی اور ایشیائی ترقی پذیر ممالک سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔






