بھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیریوں کا بطور انسانی ڈھال استعمال، محبوبہ مفتی کا اظہار تشویش

سری نگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھارتی فوجیوں کی طرف سے کولگام میں نہتے کشمیریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے حالیہ واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے جو افسوسناک ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فوجی ضلع کولگام کے ایک گاﺅں میں تلاشی کی کارروائیوں کے دوران دس سے زائد نوجوانوں کو حراست میں لیکر قریبی جنگل میں ساتھ لے گئے تھے اور ایک غار کی تلاشی میں انہیں بطور انسانی ڈھال استعمال کیا ۔ اس دوران محمد جہانگیر نامی ایک نوجوان گار میں موجود ریچھ کے حملے سے شدید زخمی ہوا اور وہ اس وقت سرینگر کے صورہ ہسپتال میں زیر علاج ہے۔
محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس “ پر لکھا کہ واقعے کو ایک ہفتہ سے زائد کا عرصہ گزرچکا لیکن متعلقہ راشٹریہ رائفلز یونٹ اس پر بالکل خاموش ہے جبکہ پولیس کی طرف سے بھی اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ جہانگیر کو زبردستی ایک غار میں داخل ہونے پر مجبور کیا گیا جس میں ریچھ موجود تھا اور اس نے جہانگیر پر حملہ کردیا۔
یاد رہے کہ بھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیریوںکو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ قبل ازیں اس طرح کے بیسیوں واقعات پیش آئے ہیں۔مقبوضہ وادی کشمیر کے ضلع بڈگام میں 9 اپریل 2017 کو اس طرح کا ایک دلخراش واقعہ پیش آیا تھا ۔ بھارتی فوج کے میجر لیترول گوگوئی نے مقامی کشمیری نوجوان فاروق احمد ڈار کو اپنی جیپ کے بونٹ سے باندھ کر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا تھا۔ میجر گوگوئی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے پتھراﺅسے بچنے کے لیے یہ قدم اٹھایا تھا۔ تاہم اس اقدام کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی قرار دیا گیا اور اس کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی۔بھارتی فوج نہتے کشمیریوں کے قتل عام اور انہیں انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کرنے والے اپنے افسروں اور اہلکاروں کو انعام اور ترقیوں سے نواز رہی ہے۔ گوگوئی کو بھی قانون کے کٹہرے میں لانے کے بجائے اس وقت کے بھارتی فوج کے سربراہ بپن راوت نے میڈل دیاتھا۔





