چابہار منصوبہ ناکامی اور مشرقِ وسطیٰ میں بھارت کی کمزور ہوتی اسٹریٹجک پوزیشن
اسلام آباد: پاکستان کی گہرے پانیوں کی گوادر بندرگاہ کے خلاف بھارت کی طرف سے ایران میں شروع کیاگیا چابہار منصوبہ مشکلات کا شکارہو چکا۔ مودی کی بھارتی حکومت نے امریکہ ایران جنگ کے دوران چابہار پورٹ کی ترقی کے لیے کوئی نئی فنڈنگ مختص نہیںکی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایران، جسے کبھی بھارت کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار کہا جاتا تھا،بھارت نے آج اسے ایک استعمال شدہ مہرے کی طرح چھوڑ دیا ہے جبکہ مودی حکومت کی طرف سے چابہار پورٹ کی تعمیر کے لیے بھی نئی فنڈنگ نہیں دی گئی۔ ایران کو برسوں تک بھارت کا قریبی اسٹریٹجک پارٹنر بنا کر پیش کیا گیا مگر امریکی انتظامیہ کے دبائو کے سامنے مودی حکومت نے پیچھے ہٹنا بہتر سمجھا، جبکہ یونین بجٹ میں چابہار منصوبے کے لیے کوئی نیا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔امریکہ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں بھارت نے اپنی اسٹریٹجک خودمختاری اور قومی مفادات کو نقصان پہنچایا جبکہ اس کے اسٹریٹجک اتحادی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے۔ بھارت اور ایران کے درمیان نام نہاد شراکت داری اب کمزور پڑ چکی ہے اور امریکہ و اسرائیل کے دبائو کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ تنازع میں ثالثی کردار نہ ملنے پر بھارتی مایوسی بھی واضح ہے۔ بھارت کی نام نہاد اسٹریٹجک خودمختاری پر امریکی ناراضگی نے نئی دلی کو مزید امریکی خارجہ پالیسی کے قریب کر دیا ہے، جس کا ثبوت ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی کھل کر مذمت نہ کرنا ہے۔بھارت مشرقِ وسطیٰ بحران کو غلط انداز میں سنبھال رہا ہے؛ اس نے اپنے اتحادی ایران کو تنہا چھوڑ دیا جبکہ اسرائیل اور امریکہ کی کارروائیوں اور خطے میں جنگ مسلط کیے جانے پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اسٹریٹجک خودمختاری اب ایک کھوکھلا نعرہ بنتی جا رہی ہے، جبکہ نئی دہلی کی حقیقت دنیا کے سامنے واضح ہو رہی ہے۔





