شوپیاں سانحہ کی 17ویں برسی، متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع شوپیاں میں دو کشمیری خواتین آسیہ اور نیلوفر کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کے المناک واقعے کو آج 17 برس مکمل ہو گئے، تاہم متاثرہ خاندان اب بھی انصاف سے مسلسل محروم ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک دہائی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود شوپیاں سانحہ کے متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم نہیں کیا جا سکا۔ آسیہ اور نیلوفر کو 2009میں شوپیاں میں وردی میں ملبوس ہلکاروں نے اغوا کے بعد عصمت دری کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا، ان کی لاشیں اگلے روز 30 مئی کو برآمد ہوئی تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ شوپیاں کا یہ افسوسناک واقعہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ظلم و بربریت ، خواتین کی بے حرمتیوں اور منظم ریاستی تشدد کی ایک سنگین مثال ہے۔ رپورٹ کے مطابق کشمیری خواتین کو تحریک آزادی میں سرگرم کردار ادا کرنے پرقابض فوجیوں کی طرف سے ہراسگی، ظلم و تشدد اور سنگین جنسی جرائم کا سامنا ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 1989سے اب تک مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں، پیراملٹری اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے کشمیری خواتین کی عصمت دری، اجتماعی زیادتی اور بدسلوکی کے 11ہزار 270سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔رپورٹ میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ کشمیری خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سب سے بری طرح شکار ہیں اورمقبوضہ علاقے میں جنسی تشدد کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ کشمیری عوام کو خوفزدہ اوراپنی جدوجہد آزادی ترک کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
متاثرہ خاندانوں نے جو بھارتی اداروں سے مایوس ہو چکے ہیں، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور آزادعالمی فورموں سے انصاف کی اپیل کی ہے۔
ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں آسیہ اور نیلوفر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شوپیاں سانحہ کو جموں و کشمیر کے عوام کے اجتماعی ضمیر پر ایک گہرا زخم قرار دیاہے۔انہوں نے کہا کہ شوپیاں سانحہ نے پوری وادی کشمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا اور اس سانحے کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔








