بھارتی حکومت امرناتھ یاترا کی آڑ میں کشمیری مسلمانوں کے مذہبی تشخص کو کمزور کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا

سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سالانہ امرناتھ یاترا کی تیاریاں جاری ہیں، یاترا 3 جولائی سے شروع ہو گئی اور یہ 57 روز تک جاری رہے گی۔ بھارتی حکومت امرناتھ یاترا کیلئے جس بڑے پیمانے پر انتظامات کرتی ہے وہ اس بات کا مکمل غماز ہے کہ وہ اسکی آڑ میں اکثریتی مسلم آبادی کے مذہبی اور ثقافتی تشخص کو کمزور کرنے کی ایک منصوبہ بند پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یاترا میں شرکت کیلئے مختلف بھارتی ریاستوں سے ہربرس لاکھوں یاتری مقبوضہ وادی کشمیر آتے ہیں ۔ بھارتی حکومت کی حفاظت کیلئے پیرا ملٹری کی اضافی کمپنیاں مقبوضہ وادی میں روانہ کردیتی ہے ، بھارتی وزارت داخلہ نے اس برس بھی پیرا ملٹری سینٹرل آرمڈ پولیس فورس کی 670اضافی کمپنیوں کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔ 57روزہ ہندو امرناتھ یاترا 3جولائی کو شروع ہوگی جو 28اگست تک جاری رہے گی ۔ لاکھوں کی تعداد میں ہندو یاتریوںکی مقبوضہ وادی میں آمد سے علاقے کے قدرتی ماحول پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔بھارتیہ جنتاپارٹی کی ہندو توا بھارتی حکومت ایک طرف ہندو یاتریوں کو تمام سہولیات فراہم کر رہی ہے ،جبکہ دوسری طرف اس نے مقبوضہ علاقے کے مسلمانوں کے دیگر بنیادی حقوق کیساتھ ساتھ مذہبی حقوق بھی سلب کر رکھے ہیں۔ بھارتی انتظامیہ نے اس مرتبہ مسلسل آٹھویں برس کشمیری مسلمانوں کوسرینگرکی عید گاہ اور تاریخی جامع مسجد میں عید الاضحی کی نمازادا نہیں کرنے دی۔
امرناتھ شرائن بورڈ اور انتظامیہ کی طرف سے یاترا کیلئے بڑے پیمانے پر انتظامات کیے جاتے ہیں ، طبی کیمپ، اور لنگر لگائے جاتے ہیں۔ یاتریوں کے لیے خصوصی ہیلی کاپٹر خدمات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔اسکے برعکس مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کے مذہبی حقوق سلب کیے جاتے ہیں۔عید الفطر، عید الاضحی اور جمعہ الوداع جیسے اہم ترین موقوع پر سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اور عیدگاہ میں نماز کی ادائیگی پر پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں ۔علاقے میں محرم کے جلوس نکالنے اور دیگر مذہبی و ثقافتی تقریبات پر بھی سیکیورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر باقاعدہ پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔بھارتی انتظامیہ کیطرف سے مساجد اور ان کی انتظامی کمیٹیوں کی نگرانی کی جاتی ہے، جو کشمیری مسلمانوں کے دینی معاملات میں صریخ مداخلت ہے ۔
یاترا کے دوران عام کشمیری شہریوں کی روزمرہ نقل و حرکت شدید متاثر ہوتی ہے، اور پورا خطہ ایک فوجی چھائونی میں تبدیل ہو جاتا ہے جس سے بنیادی انسانی حقوق بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔







