بھارت کے ساتھ تنازعے کے حل کے لئے نیپالی وزیر اعظم کا برطانیہ اور چین سے مداخلت کا مطالبہ

کھٹمنڈوی:نیپالی وزیر اعظم بلیندر شاہ نے برطانیہ اور چین سے مطالبہ کیاہے کہ وہ کالاپانی،لیپولیکھ اورلمپیادھورا کے تنازعات کو حل کرانے کے لئے مداخلت کریں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بلیندر شاہ نے نیپال کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ کھٹمنڈو اور نئی دہلی دونوں نے ایک دوسرے کی سرزمین پرتجاوز کیا ہے۔ انہوں نے تیسرے فریق کی ثالثی پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے نہ صرف بھارت اور چین کے ساتھ بلکہ برطانیہ کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے،انہوں نے اس تنازعے کو برطانوی ہند کے تحت 1816 کے سوگولی معاہدے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کو بھی تشویش کا اظہار کرنا چاہئے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے شاہ کے بیان یا نیپال کی لندن مداخلت پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ تنازعہ 2020 میں اس وقت شدت اختیارکرگیا جب نئی دہلی نے کیلاش مانسروور یاترا کے لیے لیپولیکھ درے سے ایک سڑک کا افتتاح کیا جس کے بعد نیپال نے ایک نظرثانی شدہ نقشہ جاری کیاجس میں کالاپانی، لیپولیکھ اور لمپیادھورا کونیپال کا حصہ ظاہر کیاگیا اور بعد میں اسے آئین میں شامل کیاگیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت علاقائی استحکام کی آڑ میں نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا اور مالدیپ کے داخلی اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں مسلسل مداخلت کررہاہے اورجب بھارت کے اقدامات پر سوال اٹھائے جاتے ہیں تویہ کثیر جہتی میکانزم کو مسترد کر تا ہے۔نیپال کی وزارت خارجہ نے دونوں ممالک کے شہریوں کی طرف سے سرحد پار کاشتکاری اور آباد کاری کا حوالہ دیتے ہوئے شاہ کے تجاوزات سے متعلق بیان کی وضاحت کی ہے ،پھر بھی نئی دہلی نے کھٹمنڈو کی سفارتی کوششوں کومسترد کیا ہے۔ کالاپانی کا تنازعہ سوگولی معاہدے کے تحت دریائے کالی کی ابتدا کی متضاد تشریحات سے جنم لیتا ہے۔1827 اور 1856 کے ابتدائی برطانوی نقشوں میں کالاپانی کو نیپالی علاقے کے طور پر دکھایا گیا تھا لیکن بعد میں ہونے والے سروے میں اسے تبدیل کر دیاگیا، نیپال کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی اس کی رضامندی کے بغیر کی گئی تھی۔ بھارت کو 1947 میں یہی سرحد ملی تھی اور اس کے بعد سے اس نے کالاپانی میں اپنی فوجیں برقرار رکھی ہیں۔اسی لئے نیپال برطانیہ اور چین کی مداخلت چاہتاہے۔ یہ اقدام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جنوبی ایشیاکے ممالک بھارت کی مداخلت کو قبول کرنے کے لیے کسی صورت تیار نہیں ہیں اور نوآبادیاتی دور کے معاہدوں سے جڑے تنازعات کو حل کرنے کے لیے تیسرے فریق کی مداخلت چاہتے ہیں۔







