بھارت

آپریشن بلیو سٹار: چار دہائیوں بعد بھی سکھ برادری کے زخم تازہ، انصاف کے مطالبات برقرار

نئی دلی:دنیا بھر میں سکھ برادری جون 1984 میں گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوج کے حملے، آپریشن بلیو سٹار، کی برسی منا رہی ہے۔ سکھ برادری اس کارروائی کو اپنی تاریخ کے المناک ترین واقعات میں شمار اور اسے مذہبی آزادی، شناخت اور انصاف کی جدوجہد کی ایک اہم علامت قرار دیتی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آپریشن بلیو سٹار کا آغاز جون 1984میں اس وقت کیاگیا جب بھارتی فوج نے امرتسر میں واقع سکھوں کے مقدس ترین مذہبی مقام، گولڈن ٹیمپل کمپلیکس، میں فوجی کارروائی کی۔ یہ آپریشن جو 10جون تک جاری رہاکے دوران بھاری ہتھیاروں، توپ خانے اور دیگر عسکری وسائل کا استعمال کیا گیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں سکھوں کے مقدس مقام کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ہزاروں سکھوں کو قتل کیاگیا ۔سکھ تنظیمیں اور رہنما اس واقعے کوسکھوں کے ”ہولوکاسٹ ”کے نام سے یاد کرتے ہیں اور اسے سکھ برادری کی اجتماعی تاریخ کا ایک انتہائی دردناک باب قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق بھارتی فوج نے کارروائی کر کے نہ صرف گولڈن ٹیمپل کے تقدس کو پامال کیا بلکہ سکھ برادری کے مذہبی جذبات کو بھی شدید ٹھیس پہنچائی۔آپریشن کے دوران سکھ رہنما جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کا قتل دنیا بھر کے سکھوں کے لیے ایک گہرا جذباتی معاملہ ہے۔ بھنڈرانوالے کو ان کے حامی ایک ممتاز سکھ رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں جنہوں نے سکھوں کے حقوق، شناخت اور مذہبی اقدار کی حمایت کی۔ سکھ برادری کے بہت سے لوگ انہیں ایک بہادر شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں جنہوں نے سکھوں کو ہندوستانی سامراج اور سیاسی تسلط کے خلاف بیدار کیا۔ان کے حامی انہیں سکھوں کے حقوق، مذہبی آزادی اور شناخت کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنے والی شخصیت کے طور پر یاد کرتے ہیں۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آپریشن بلیو سٹار کے اثرات چار دہائیوں بعد بھی سکھ برادری کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ ہر سال اس واقعے کی برسی کے موقع پر سکھوں کے سیاسی حقوق، تاریخی شکایات اور انصاف کے مطالبات ایک بار پھر موضوعِ بحث بن جاتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق 1984کے واقعات نے سکھ سیاست اور سماجی شعور پر گہرے اثرات مرتب کیے، جبکہ بعض حلقوں کے نزدیک انہی واقعات نے خالصتان تحریک کے بیانیے کو بھی تقویت فراہم کی۔ مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ آپریشن بلیو سٹار کی یاد آج بھی سکھ برادری کے لیے مزاحمت، استقامت اور اپنی مذہبی و ثقافتی شناخت کے تحفظ کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ ان کے مطابق انصاف، جوابدہی اور تاریخی حقائق کی مکمل وضاحت سے متعلق مطالبات بدستور برقرار ہیں، جس کے باعث یہ واقعہ سکھ تاریخ اور سیاست میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button