مقبوضہ جموں و کشمیر

راجوری میں بھارتی فوجی آپریشن گیارہویں روز بھی جاری

گولیوں اور دھماکوں سے علاقے میں شدیدخوف و دہشت کا ماحول

سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں بھارتی فورسز کی محاصرے اور تلاشی کی کارروائی مسلسل گیارہویں روز بھی جاری رہی، جس کے دوران پیر کو علاقے میں گولیوں اور زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں ،جس سے مقامی لوگ شدید خوف ودہشت میں مبتلا ہو گئے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق راجوری کے علاقوں گمبھیر مغلاں اور ڈوریمل منجاکوٹ میں بھارتی فوج، سینٹرل ریزرو پولیس فورس، اسپیشل آپریشنز گروپ اور نام نہاد ولیج ڈیفنس گارڈز مشترکہ کارروائی میں مصروف ہیں۔ بھارتی حکام نے اس فوجی کارروائی کو آپریشن شیراولی کا نام دیا ہے۔ گمبھیر مغلاں کے علاقے ڈوری مال میں پیر کے روز دن بھر وقفے وقفے سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ رہائشیوں کے مطابق زور دار دھماکوں کی گونج دور دراز دیہات تک محسوس کی گئی، جس سے پورے علاقے میں کشیدگی اور بے چینی کی فضا قائم ہو گئی ،جہاں بھارتی فوجی گزشتہ دس دن سے پر تشدد کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔بھارتی فورسز آپریشن میں جدید جنگی ہیلی کاپٹروں، ڈرونز اورسراغرساں کتوں کا استعمال کر رہی ہیں، جبکہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پیرا کمانڈوز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ علاقے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو بند کر دیا گیا ہے اور مقامی باشندوں کو بار بار گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ادھر راجوری کے علاوہ پونچھ، کشتواڑ اور بارہمولہ اضلاع کے مختلف علاقوں میں بھی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ ان علاقوں میں بھارتی فوج، پولیس، ایس او جی اور سی آر پی ایف سمیت قابض فورسز کی بھاری نقل و حرکت دیکھی جا رہی ہے۔مقامی آبادی نے طویل فوجی آپریشن کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہونے کی شکایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل تلاشیوں، نقل و حرکت پر پابندیوں اور سکیورٹی کارروائیوں کے باعث شہریوں کوشدید مشکلات کا سامنا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button