ہردیپ سنگھ نجار قتل کیس: شواہد کی رازداری پر تنازع
بھارت کی مبینہ سرحد پارکاروائیاں اور اثر و رسوخ بے نقاب
اوٹاوا: سکھوں کی خالصتان تحریک کے رہنماء ہردیپ سنگھ نجار قتل کیس ایک بار پھر کینیڈا میں قومی سلامتی، عدالتی شفافیت اور بھارت کی سرحد پارکارروائیاں اور مخالفیں کو قتل کرانے سے متعلق بحث کا مرکز بن گیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جون 2023میں برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کے سلسلے میں چار بھارتی شہریوں پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی ۔ تاہم ناقدین کے مطابق انصاف کے تقاضے پورے کرنے اور عدالتی شفافیت کو یقینی بنانے کے بجائے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو اہم اور حساس شواہد کو عوامی نظروں سے اوجھل رکھنے کے مترادف ہیں۔دسمبر 2025میں کینیڈا کے اٹارنی جنرل شان فریزر نے کینیڈا ایویڈنس ایکٹ کی سیکشن 38 کے تحت ایسی معلومات کی اشاعت محدود کرنے کے لیے قانونی کارروائی شروع کی جو قومی سلامتی یا بین الاقوامی تعلقات سے متعلق حساس سمجھی جاتی ہیں۔
بعد ازاں رواں سال اپریل میں وفاقی عدالت کے جج سائمن فودرگل نے دو Amici Curiae مقرر کیے تاکہ حساس مواد کا جائزہ لیا جا سکے اور یہ طے کیا جا سکے کہ کون سی معلومات عوامی سطح پر ظاہر کی جا سکتی ہیں اور کون سی نہیں۔اس پیش رفت پر تنقید کرنے والے حلقوں کا موقف ہے کہ یہ اقدام محض معمول کی قانونی کارروائی نہیں بلکہ ممکنہ طور پر ایسے شواہد کو محدود کرنے کی کوشش ہے جو بھارت سے مبینہ روابط یا سرگرمیوں کو اجاگر کر سکتے ہیں۔ تاہم حکومتی موقف یہ ہے کہ حساس معلومات کی حفاظت قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق ضروری ہے۔اس سے قبل کینیڈین سکیورٹی اداروں، بشمول CSIS اور NSICOP، کی رپورٹس میں غیر ملکی مداخلت اور اثر و رسوخ کے مختلف خدشات کا ذکر کیا گیا تھا۔ ناقدین ان رپورٹس کے تناظر میں ہردیپ سنگھ نجار قتل کیس کو بھی وسیع تر غیر ملکی مداخلت کے مباحثے سے جوڑتے ہیں۔
ادھر واں سال مارچ میں RCMPکے موقف میں آنے والی مبینہ تبدیلی کو بھی بعض مبصرین سفارتی دبا ئویا پس پردہ سودے بازی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔مزید برآں بعض سیاسی ناقدین نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ پس پردہ سفارتی لابنگ، جس میں مبینہ طور پر وزیر خارجہ انیتا آنند کی جانب سے نرم دبائو بھی شامل تھا، نے بھارت کے ساتھ منافع بخش اقتصادی تعلقات کو انصاف اور سچائی پر فوقیت دی۔






