بھارت: بہار میں ہندو انتہاپسندوں کے ہاتھوں ایک اور مسلمان کا بہیمانہ قتل
پٹنہ: بھارت کی ریاست بہار میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک ہجوم نے ایک 25 سالہ مسلمان شخص کو گھر سے زبردستی باہر نکال کر پیٹ پیٹ کرقتل کردیا ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مقتول کی شناخت شہزاد علی کے نام سے ہوئی جسے ہندو انتہا پسندوں نے گھر سے اغوا کرکے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔شہزاد کی اہلیہ مبینہ خاتون نے پولیس میں درج کرائی گئی شکایت میں کہا کہ ہندو انتہاپسندوں کا ایک گروپ ان کے گھر آیا، اس کے شوہر کو باہر بلایا اوراسے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ کئی گھنٹوں بعد اہل خانہ کو اطلاع ملی کہ وہ فوت ہو چکا ہے۔شکایت میں کہا گیا ہے کہ شہزاد کو درخت سے باندھ کر لاٹھیوں کے ساتھ ساتھ گھونسوں اور لاتوں سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ لواحقین کا کہنا تھا کہ حملے کے دوران شہزاد کے پاس موجود نقدی بھی چھین لی گئی۔مقتول کے لواحقین نے بتایا کہ دو ماہ قبل ہی خاندان کو ایک اور سانحے کا سامنا کرنا پڑا تھا جب شہزاد کا بڑا بھائی نوشاد علی مشکوک حالت میں درخت سے لٹکا ہوا پایا گیا تھا۔ دونوں بھائیوںنے اپنے پیچھے دو بیوائیں اورکئی بچے چھوڑا ہے اور انہیں ایک غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔لواحقین کا کہنا تھا کہ اگرچہ حکام نے شہزاد کی تدفین کے بعد فوری کارروائی اور گرفتاریوں کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ اگر ذمہ داروں کو فوری طورپرگرفتار نہ کیاگیا تو وہ احتجاج پر مجبورہوجائیں گے۔ اس واقعے سے بھارت میں ایک بار پھر ہجومی تشدد اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے نفرت انگیز جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات پر انسانی حقوق کے علمبرداروں میںتشویش پیدا ہوئی ہے۔








