بھارت

بھارت کا اگنی ایم آئی آروی میزائل کا تجربہ عالمی استحکام کے لیے خطرہ

نئی دہلی : بھارت کی جانب سے 8 مئی 2026 کو مختلف اہداف کی نشانہ بنانے کی ٹیکنالوجی سے لیس جدید اگنی میزائل کے تجربے کو خطے اوردنیا کے استحکام کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا جارہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میزائلکو ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام جزیرے سے لانچ کیا گیا اور بحر ہند میں 3,560 کلو میٹر دوراہداف کو نشانہ بنایاگیا۔ ایک اپ گریڈ شدہ اگنی وی ویرینٹ نے مبینہ طور پر مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے چھ سے آٹھ چھوٹے چھوٹے پے لوڈ چھوڑے۔ تجزیہ کاروںکا کہنا ہے اگرچہ بھارت اس نظام کو 5,000سے5,500 کلومیٹر تک درمیانی فاصلے تک مارکرنے والے بیلسٹک میزائل کے طور پر پیش کررہا ہے،تاہم سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے بین الاقوامی جائزوں اور چینی ماہرین نے اس کی حقیقی رینج 7,000سے8,000 کلومیٹر یا اس سے زیادہ بتائی ہے اوراسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل قراردیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ اس سے چین، روس اور یورپ کے دوردراز علاقوں کو نشانہ بنایاجاسکتا ہے اور یہ عالمی تجارت کے لیے اہم سمندری راستوں اور چوکیوں کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی تابکار مواد کی بڑھتی ہوئی پیداوار، آبدوز سے لانچ کیے جانے والے کے فور، کے فائیو اورکے سکس میزائل، نیوکلیئر ٹرائیڈ اور میزائل دفاعی نظام بنیادی طور پر چین کے خلاف ہیں لیکن ان سے بحر ہند میں مغربی مفادات کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔اگنی-VI کے لیے تیاری کی ڈی آر ڈی او کی تصدیق کے بعد اس تجربے نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ بھارت کی غیر شفافیت اور تیزی سے ایم آئی آروی میں بہتری دفاعی جدید کاری کے بجائے علاقائی بالادستی کے عزائم کا اشارہ دیتی ہے۔ تجزیہ کاروں نے واشنگٹن اور مغربی دارالحکومتوں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر نوٹس لیں۔ انہوں نے خبردارکیا کہ مہلک ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے بین الاقوامی نظام کے غیر مستحکم ہونے اور ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کا خطرہ ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button