مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیرکا سب سے بڑا اخبار ”کشمیر عظمیٰ“ مطبوعات کی سرکاری فہرست سے خارج

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹوریٹ نے کشمیر کے سب سے بڑے اردو روزنامے ” کشمیر عظمیٰ “کو مطبوعات کی سرکاری فہرست سے خارج کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ فہرست ڈی آئی پی آر نے 10 جون کو ایم شجاع کی طرف سے دائر کی گئی معلومات تک رسائی کے حق کے تحت ایک درخواست کے جواب میں پیش کی تھی جس میں مختلف اشاعتوں کے لیے مختص اشتہار ات کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔جواب میں 148 اشاعتوں کی فہرست دی گئی ہے جن میں سے اکثر گمنام ہیں اوران کو کوئی نہیں پڑھتا، لیکن کشمیر عظمیٰ اس میںشامل نہیں تھا۔ کشمیر عظمیٰ جو 2002 میں ایک ہفتہ وار کے طور پر شروع ہوا، جلد ہی کشمیر میں پیشہ ورانہ اردو صحافت میں ایک اہم نام کے طور پر ابھرا۔بعد میں یہ روزنامہ میں تبدیل ہوا اور وادی میں اردو کا سب سے زیادہ چھپنے والا اخباربنا۔وادی کشمیر کے سب سے بڑے اورمقبول اخبار کو فہرست سے نکالنے پر قابض حکام کوتنقید کا سامنا ہے۔ اسی آر ٹی آئی کے جواب میں ڈی آئی پی آر نے انکشاف کیا کہ کشمیرعظمیٰ کی ذیلی اشاعت” گریٹر کشمیر“ کے لیے اشتہار کا حصہ ایک چھوٹے سے اخبار سے 198 گنا کم ہے۔میڈیا حلقوں نے کشمیر عظمیٰ کو سرکاری فہرست سے خارج کرنے کو من مانی قرار دیتے ہوئے ڈی آئی پی آر کی جانب سے منظوری اور اشتہارات کی تقسیم کے لیے اختیار کیے گئے معیار پر سوالیہ نشان لگا دیا۔میڈیا کے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اخراج ایسی اشاعتوں کے خلاف امتیازی سلوک کی عکاسی کرتا ہے جو مسئلہ کشمیر پر قابض حکومت کے موقف کی حمایت نہیں کرتے۔ کشمیر عظمیٰ اور گریٹر کشمیر مقبوضہ جموں و کشمیر میں زمینی حقائق کو مسلسل اجاگر کرتے رہے ہیں اور سرکاری اشتہارات اور فہرستوں میں انہیں نظرانداز کرنے کو ایک سزا کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد آزاد آوازوں کو خاموش کرنا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button