بھارت سکھوں اور کشمیریوں کی تحریکوں کو کچلنے کے لیے منشیات کا استعمال کر رہا ہے: تجزیہ کار
ضلع سرینگر کے ثانوی اور ہائرسیکنڈری طلباءکی ایک بڑی تعداد منشیات کی لت میں مبتلا، تحقیق

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں” ڈسٹرکٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ“ (ڈی آئی ای ٹی)، سری نگر کی ایک جامع تحقیق میں ضلع میں ثانوی اور ہائر سیکنڈری طلباءمیں منشیات اور دیگر نشہ آور اشیاءکے بڑے پیمانے پر استعمال کی نشاندہی کی گئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع سری نگر کے سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری کے 20سکولوں میں کلاس 9 سے 12 تک کے تقریبا 31سو طلباءکا سروے کیا گیا۔ منشیات کے استعمال کی بنیادی وجوہات میں ہم عمروں کا دباو اور سوشل میڈیا کا بے جا استعمال شامل ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ نویں سے بارہویں جماعت تک کے طلباءمیں نشے کی لت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ہم عمروں کے دباو کو لڑکوں میں نشے کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے، جس کی تصدیق ثانوی سطح کے 46 فیصد اور ہائر سیکنڈری سطح کے 68 فیصد طلباءنے کی ہے۔ حیران کن طور پر 69 فیصد لڑکے اور 74 فیصد لڑکیاں منشیات کی بحالی اور علاج کی خدمات کے بارے میں مکمل طور پر لاعلم ہیں۔ زیادہ سوشل میڈیا کا استعمال، تنہائی، اور تجسس اسکول کے نوعمر بچوں کو منشیات کی طرف راغب کرنے والے دیگر عوامل ہیں۔
مبصرین اور سیاسی تجزیہ نگاروںکا کہنا ہے کہ سب سے پہلے خالصتان تحریک کو کمزور کرنے کے لیے پنجاب میں سکھوں کو منشیات کانشانہ بنایا گیا۔ اب کشمیری نوجوانوں کو اسی طرح سے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ بھارتی حکام کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بھی کمزور کرنے کیلئے منشیات کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ڈی آئی ای ٹی کی تحقیق میں بھی یہ تسلیم کیاگیا ہے کہ کہ والدین، اساتذہ اور مذہبی رہنماوں کی جانب سے اس لعنت کو روکنے کی کوششوں کے باوجود منشیات کا استعمال ایک بڑے سماجی چیلنج کے طور پر ابھرا ہے۔







