پاکستان کا اقوام متحدہ کو خط ، سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیوں پر اظہارتشویش

19جون: اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے لکھا گیا ایک خط اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی جون کے لیے صدر لیونور زلاباٹا ٹوریس کے حوالے کر دیا ہے، جس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق خط میں تحریر ہے” یہ خط اقوام متحدہ سلامتی کونسل کو بھارت کے ان اقدامات کی جانب فوری توجہ مبذول کراتا ہے جنہیں پاکستان نے 1960 کے ورلڈ بینک کی سرپرستی میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدہ سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
خط میں کہا کیا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائے چناب کے نظام سے متعلق دو غیر قانونی آبی منصوبے تعمیر کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد پانی کے بہاو کو موڑنا ہے، جس سے معاہدے کے تحت طے شدہ مغربی دریاوں کے استعمال اور بہاو میں غیر قانونی تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔پاکستان نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ اقدامات پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے مترادف ہیں، جس کے پاکستان کی آبی، غذائی اور معاشی سلامتی کے ساتھ ساتھ علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
خط میں سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس بگڑتی ہوئی اور نازک صورتحال کا نوٹس لے اور بھارت کو خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائے۔ دریں اثنا اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے صدر کو جنوبی ایشیا کی مجموعی صورتحال اور جموں و کشمیر کے تنازعہ پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بھارتی خلاف ورزیوں سے بھی آگاہ کیا۔






