مودی حکومت اپنی ریاستوں کو تقسیم کرنے کے لیے بھی پانی کو ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہے

نئی دہلی : مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت”تقسیم کرو اور حکومت کرو“کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جو اپوزیشن کے زیر اقتدار ریاستوں کو دریائی پانی کے معاملے پر تقسیم کرنے اور اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے پانی کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے پر شدید تنقید کی زد میں ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیاسی مبصرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے ذریعے نہ صرف پانی کو پاکستان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے بلکہ اپنے انتخابی فائدے کے لیے بھارت کے اندر دریاﺅں کے تنازعات میں بھی سرگرم عمل ہے۔کرناٹک اور تامل ناڈو کے درمیان جاری کاویری تنازعہ اس خطرناک کھیل کی ایک روشن مثال ہے۔ کرناٹک میں ڈی کے شیوکمار کی زیرقیادت کانگریس کی حکومت بنگلورو کے پینے کے پانی اور پن بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے میکیڈاٹو بیلنسنگ ریزروائر منصوبے کو تیزی پر آگے بڑھا رہی ہے جبکہ تامل ناڈو میں ٹی وی کے کی زیرقیادت اتحاد نے اسمبلی میں متفقہ طور پر 19 جون 2026 کو ایک قرارداد منظور کی اوراس منصوبے کی شدید مخالفت کی۔تامل ناڈو کا دعویٰ ہے کہ کرناٹک نے 2007 کے کاویری ٹریبونل ایوارڈ اور 2018 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ مرکز جان بوجھ کر تاخیر کر رہا ہے یا سنٹرل واٹر کمیشن اور ماحولیاتی اداروں کے ذریعے کلیئرنس کا انتظار کر رہا ہے جس سے دونوں ریاستوں میں مسلسل کشیدگی پائی جاتی ہے۔ مودی حکومت نہ توکرناٹک کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ کویکسر مسترد کرتی ہے اور نہ ہی دیرپا اتفاق رائے میںسہولت فراہم کررہی ہے تاکہ علاقائی اضطراب کو ہوا دی جاسکے۔ یہ تنازعہ بی جے پی کے متعدد مقاصد کو پورا کرتا ہے۔ اس سے اپوزیشن کے زیرف اقتدار ریاستیں کمزورہوتی ہیں،ناکام حکمرانی سے عوامی توجہ ہٹ جاتی ہے اور مرکز انتخابی اوقات میں خود کو حتمی ثالث کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس طرح کی گھٹیا سیاست نہ صرف دونوں ریاستوں میں کسانوں کی پریشانی کو بڑھاتی ہے بلکہ خطرناک لسانی اور علاقائی تقسیم کو بھی گہرا کرتی ہے جس سے تعاون پر مبنی وفاقیت کی روح بری طرح مجروح ہوتی ہے۔ زندگی کو برقرار رکھنے والے ایک قیمتی وسیلے پانی کو انتخابی فائدے اور سیاسی بلیک میلنگ کے لئے ایک ہتھیار کے طوپراستعمال کیا جارہا ہے۔تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ پانی کو اسطرح ہتھیار کے طورپراستعمال کرنابھارتی ریاستوں کے لیے اتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا پاکستان کے خلاف بھارتی موقف ہے۔اس طرح کے تنازعات کا حقیقی اور دیرپا حل مودی حکومت کے سیاسی جوڑ توڑ کے بجائے عدالتی ہدایات اور ٹریبونل کے فیصلوں کے غیر جانبدارانہ نفاذ کا تقاضا کرتا ہے۔






