بھارت میں مسلمانوں کی تاریخ مٹانے کی کوشش، کولکتہ میں سہروردی ایونیو کا نام تبدیل
کولکتہ:بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت نے کولکتہ میں معروف مسلمان اسکالرسے منسوب سہروردی ایونیو کا نام تبدیل کرکے گوپال مکھرجی روڑ رکھ دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کولکتہ میونسپل کارپوریشن نے سہروردی ایونیو کا نام بدل کر گوپال مکھرجی روڈ رکھ دیا۔ بی جے پی کے رہنما اور وزیر اعلی سویندو ادھیکاری نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سڑک کا نام حسین شہید سہروردی کے نام پر رکھا گیاتھا جو غیر منقسم بنگال کے آخری وزیر اعظم اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم تھے۔انہوں نے نام تبدیل کرنے کو ایک تاریخی غلطی کی اصلاح قرار دیا۔تاہم مورخین، اپوزیشن رہنماو¿ں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس دعوے کو مستردکرتے ہوئے واضح کیا کہ اس ایونیو کا نام ایک ممتاز ماہر تعلیم، مورخ اور کلکتہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر حسن شاہد سہروردی کے نام پر رکھا گیا تھا۔ جب کہ دونوں کا تعلق ایک ہی ممتاز بنگالی خاندان سے تھا اوروہ دونوں الگ الگ تاریخی شخصیات تھیں۔کانگریس لیڈر پون کھیرا اور سی پی آئی (ایم) نے دونوں شخصیات میں ابہام پیدا کرنے پر بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اسے تاریخی جہالت کی عکاسی اور ایک بڑے عوامی مقام کا نام تبدیل کرنے سے پہلے بنیادی حقائق کی تصدیق کرنے میں ناکامی قرار دیا۔تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ ہندوتوا حلقوں میں شاہراہ کو حسین شہید سہروردی سے جوڑنے کی غلط فہمی طویل عرصے سے پھیلائی جا رہی ہے اور اس کے پیچھے آر ایس ایس سے منسلک تنظیمیں ہیں۔ اس تنازعے سے گوپال مکھرجی کے بارے میں بھی اہم حقائق سامنے آئے ہیں جن کے نام پر سڑک کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ مکھرجی بنگال میں 1946 کے فرقہ وارانہ فسادات میں ایک ممتاز ہندو رہنما تھے جنہوں نے مسلح ہندو تواگروپوں کو منظم کیا اور مسلمانوں پر حملوں کی حمایت کی جس سے وہ خطے کی تاریخ میں ایک انتہائی متنازعہ شخصیت بن گئے۔






