بھارت

بھارت :ہجومی تشدد کے کیس میں انصاف فراہم کرنے والی مسلمان جج ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر


نئی دہلی:مودی کے بھارت میں ہجومی تشدد کے ایک کیس میں انصاف فراہم کرنے والی مسلمان خاتون جج کو ہندو انتہاپسندوں نے آن لائن نفرت انگیز مہم کا نشانہ بنایاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مہم میں اے آئی کے ذریعے بار بار جج کی مسلم شناخت کو نمایاں کیا گیا۔ مدھیہ پردیش کی ایک عدالت نے نذیر احمد لنچنگ کیس میں چودہ نام نہاد گاو¿ رکشکوں کو عمر قید کی سزا سنائی۔ یہ فیصلہ بھارت میں ہجومی تشدد کے خلاف قانون کی حکمرانی اور مذہب کے نام پر سیاست کا اہم امتحان بن گیا۔ پولیس کے مطابق 2022 میں نذیر احمد قانونی طورپرجائز طریقے سے منڈی میںمویشی لے جارہاتھا۔ ہندو انتہاپسندوں کے ایک مسلح ہجوم نے گاڑی روکی اورنذیر احمد کو تشدد کا نشانہ بناکر قتل کر دیا۔ عدالت نے شواہد کی بنیاد پر چودہ ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی۔ فیصلے کے بعدہندو انتہا پسندوں نے مسلم جج تبسم خان کو نشانہ بنانا شروع کیا۔جج کی مسلم شناخت کو ہتھیار بنا کر قتل کیس کو مذہبی رنگ دیا گیا۔ انتہا پسندوں کے اکاو¿نٹس نے اے آئی گرافکس کے ذریعے مسلمان جج کو منظم انداز میں نفرت انگیز مہم کا نشانہ بنایا۔ آن لائن نفرت انگیز مہم تشدد میں بدل گئی اورایک ہجوم نے خاتون جج کا پتلانذرآتش کردیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندو انتہا پسند انٹرنیٹ پروپیگنڈے سے عدالتوں اور ریاستی مشینری پر دباو ڈال رہے ہیں۔ آزاد تنظیموں کے مطابق بھارت میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ہجومی تشدد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ قتل کے مقدمے کو مذہبی جنگ بنانا احتساب سے بچنے کی دانستہ حکمتِ عملی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

عدالتی افسران کو مذہبی شناخت پر نشانہ بنانا عدالتی خودمختاری کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ایسی منظم نفرت انگیزمہمات عدالتوں کے لیے خوف کے بغیر انصاف دینا مشکل بنا دیتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور ان کے خلاف سازشی بیانیے خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ اجتماعی مظالم کے خطرات پر نظر رکھنے والی تنظیموں نے بھی ان خدشات کی تائید کی۔جینوسائیڈ واچ نے بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے بارہا خبردار کیا۔تنظیم نے مسلم مخالف نفرت انگیز تقاریر اور تشدد کی کھلی کالز کو خطرناک عوامل قرار دیا۔اس پس منظر میں جج تبسم خان کے خلاف مہم کو صرف عدالتی فیصلے پر تنقید نہیں کہا جا سکتا۔ مہم میں بار بار جج کی مسلم شناخت کو نمایاں کر کے انہیں نشانہ بنایا گیا۔ عدالتی فیصلے کو فرقہ وارانہ سازش کے ثبوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ آن لائن اور آف لائن نفرت انگیز مہم کے ذریعے جج کے خلاف نفرت پھیلائی گئی۔ یہ مہم بھارت میں اس وسیع رجحان کا حصہ ہے جس میں مسلمانوں سے متعلق عدالتی فیصلوں کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جارہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button