پاکستان

بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے گریز کرے، سندھ طاس معاہدے کا احترام کرے:روسی ماہر

اسلام آباد: ایک ممتاز روسی ماہر نے بھارت کی جانب سے پانی کو پاکستان کے خلاف ایک ہتھیارکے طورپر استعمال کرنے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے روسی ماہر ڈاکٹر روکسولا نازیگون نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سندھ طاس معاہدے کا تسلسل ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سندھ طاس معاہدے کا تسلسل ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت واضح طور پر پانی کوایک ہتھیارکے طورپراستعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بھارت کا پاکستان کو اس کے پانی سے محروم کرنے کا اعلان عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ڈاکٹر نازیگون نے خبردارکیا کہ معاہدے کو کمزور کر کے بھارت جغرافیائی سیاسی منظر نامے کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے یکطرفہ اقدامات سے ایک خطرناک نظیر قائم ہوگی اوریہ جنوبی ایشیا میں سنگین ماحولیاتی، انسانی اور سیاسی بحرانوں کا باعث بن سکتے ہیں۔روسی ماہر نے زور دیا کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی اقدام کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ سندھ طاس معاہدے کا احترام کیا جائے۔ان کا یہ بیان پانی کی تقسیم کے اہم معاہدے کے حوالے سے بھارت کے جارحانہ موقف پر بڑھتے ہوئے خدشات کے بعد سامنے آیا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے قائم ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button