بھارت :کانگریس کا مودی سے رام مندر غبن پر خاموشی توڑنے کا مطالبہ
نئی دہلی : بھارت میں کانگریس نے ایودھیا کے رام مندر میںعطیات کے غبن پر خاموش رہنے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بھارت بھر میں کروڑوں لوگوں کے مذہبی عقیدے پر براہ راست حملہ قرار دیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ تنقید ایک نئے سیاسی تنازعے کے بعد اس وقت سامنے آئی جب اتر پردیش کانگریس کے سربراہ اجے رائے نے کہا کہ انہیں پولیس نے پیر کو پارٹی وفد کے ہمراہ ایودھیا میں رام مندر جاتے ہوئے گرفتار کیا ۔کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ مندر کا انتظام سنبھالنے والا ٹرسٹ مناسب طریقہ کار کے بغیر تشکیل دیا گیا تھا اور اسے حق معلومات (آر ٹی آئی)کے قانون سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔ایکس پر ایک پوسٹ میں جے رام رمیش نے کہا کہ شری رام مندر میں لوٹ مار پر وزیر اعظم مودی کی خاموشی ملک کے کروڑوں لوگوں کے مذہبی عقیدے پر براہ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ مودی حکومت نے بغیر کسی شفافیت یا عوامی مشاورت کے ٹرسٹ بنایا، اس میں آر ایس ایس کے ارکان بھی شامل ہیں۔ پھر پورے ٹرسٹ کو آر ٹی آئی سے باہر رکھا گیا۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ مودی جی اپنی خاموشی توڑیں۔قبل ازیں اجے رائے نے کہا تھا کہ انہیں ایودھیا پہنچنے کے فوراً بعد گرفتارکیا گیا تھا۔ اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے اسے بی جے پی حکومت کے آمرانہ طرز عمل کی ایک اور مثال قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت کی آمریت اپنے عروج پر ہے۔ اتر پردیش کانگریس کا ایک وفد پوجا کے لیے آج ایودھیا جانے والا تھا۔ جیسے ہی میں ایودھیا پہنچا، بی جے پی حکومت گھبرا گئی اور پولیس نے مجھے میرے ہوٹل سے گرفتار کر لیا۔حکومت کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ لوگ جو ایودھیا میں زمین کے اسکینڈل اور عطیات کی چوری میں ملوث ہیں، یہاں آنے والے رام بھکتوں سے کیوں ڈرتے ہیں؟







