جنیوا :ورلڈ سکھ پارلیمنٹ کا اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے موقع پراحتجاج
بھارت میں سکھ برادری کے خلاف جاری ظلم وجبر، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوںپر اظہارتشویش

جنیوا:ورلڈ سکھ پارلیمنٹ نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62ویں اجلاس کے موقع پر بھارت میں سکھ برادری کے خلاف جاری ظلم وجبر، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بیرونِ ملک سکھ رہنمائوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پرسخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گزشتہ ماہ23جون کو جنیوا میں ورلڈ سکھ پارلیمنٹ کے نمائندوں نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت کی، اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بروکن چیئر یادگار کے سامنے احتجاج کیا اور جنیوا پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر 1984کے سکھ مخالف فسادات کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔مقررین نے کہا کہ 1984 میں گوردوارہ دربار صاحب پر فوجی کارروائی اور اس کے بعد بھارت کے مختلف علاقوں میں ہونے والے سکھ مخالف فسادات کے دوران ہزاروں سکھوں کا قتل عام کیاگیا۔ اگرچہ سرکاری اعداد و شمارمیں صرف دہلی میں تین ہزار سے زائد ہلاکتوں کا اعتراف کیاگیاہے، تاہم مختلف آزاد ذرائع کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے اور بڑی تعداد میں لوگ بے گھر بھی ہوئے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی کی بھارتی حکومت نے ماضی کے سانحات سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ مقررین نے بیرونِ ملک سکھ رہنمائوں کے خلاف مبینہ سازشوں اور حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات نے عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کی ہے۔انہوں نے بھارتی ریاست پنجاب میں جبری گرفتاریوں، انٹرنیٹ کی معطلی، آزادی اظہارِ رائے پر قدغن اور دیگر پابندیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان پالیسیوں سے شہری آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ورلڈ سکھ پارلیمنٹ نے اقوامِ متحدہ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ سکھ برادری سے متعلق انسانی حقوق کے خدشات کا نوٹس لیں، شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے میں کردار ادا کریں اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کریں۔








