ترکیے : باسمتی چاول کے جغرافیائی اشاریے کا حصولنا پاکستان کی اہم تجارتی کامیابی قرار

اسلام آباد:پاکستان نے رواں سال مئی میں ترکیے میں باسمتی چاول کے لیے جغرافیائی اشاریہ (جی آئی)کا درجہ حاصل کرکے ایک اہم تجارتی کامیابی حاصل کی ہے، جسے ماہرین نے پاکستانی زرعی ورثے اور برآمدات کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی اس وقت سامنے آئی جب بھارت نے اپریل 2023میں ترک پیٹنٹ دفتر میں باسمتی چاول پر خصوصی دعویٰ پیش کیا تھا۔ پاکستان نے تجارت کے ترقیاتی ادارے (TDAP)کے ذریعے قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کیں، برآمد کنندگان کو متحرک کیا اور دستیاب تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے موقف کا موثر دفاع کیا، جس کے نتیجے میں ترکیے میں پاکستانی باسمتی چاول کو جغرافیائی اشاریے کا درجہ حاصل ہوا۔ماہرین کے مطابق اس کامیابی کے بعد ترکیے کی بڑی کمپنی M/S A-101کی جانب سے ابتدائی درآمدی آرڈرز موصول ہوئے جبکہ انقرہ میں پاکستانی باسمتی چاول کی تشہیری سرگرمیوں کا بھی آغاز کیا گیا، جس سے ترکیے کی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت ماضی میں بھی مختلف عالمی منڈیوں میں باسمتی چاول کے حوالے سے خصوصی حقوق حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق یورپی یونین میں بھی بھارت نے 2018میں باسمتی کے محفوظ جغرافیائی اشاریے کے لیے درخواست دی تھی، جس پر پاکستان نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے قانونی کارروائی کی۔ماہرین نے کہا کہ ہمالیائی پنک سالٹ سمیت دیگر پاکستانی مصنوعات کے حوالے سے بھی بھارت کی جانب سے ایسے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جن کے باعث پاکستان کو عالمی سطح پر اپنی مصنوعات کی شناخت اور تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے مثور حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ترکیے میں حاصل ہونے والی یہ کامیابی اس بات کی عکاس ہے کہ بروقت قانونی اقدامات، موثر سفارتی رابطوں اور فعال تجارتی پالیسی کے ذریعے پاکستان اپنی جغرافیائی شناخت رکھنے والی مصنوعات کا کامیابی سے دفاع کر سکتا ہے۔ ماہرین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عالمی سطح پر پاکستانی مصنوعات کی درست برانڈنگ، تجارتی کوٹوں سے بھرپور استفادہ اور قومی زرعی ورثے کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے۔






