مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارتی فوج کا جنگی جنون ، مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ایک اور فالس فلیگ آپریشن کے خدشات

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع پونچھ میں بھارت کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور بڑے پیمانے پر فرضی مشقوں نے خدشہ پیدا کر دیا ہے کہ بھارت تحریک آزادی کشمیر اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے ایک اور فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج نے کنٹرول لائن پر اور پونچھ کے اندرونی علاقوں میں متعدد مقامات پر مربوط فرضی مشقیں کیں جس میںدہشت گردانہ حملے اور ہنگامی ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی بھارتی فورسز نے ممکنہ دراندازی کی کوششوں کے بارے میں خفیہ اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے مینڈھر، سرنکوٹ اور ملحقہ علاقوں میں فوجیوں کی تعیناتی بڑھادی، اضافی چوکیاں قائم کیں، نگرانی کو مزید سخت کیا اوربڑے پیمانے پرگشت شروع کی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوجی سرگرمیوں میں اچانک اضافہ اوربغیر کسی مصدقہ ثبوت کے دہشت گردی کے خطرات کے بار بار دعوے مقبوضہ علاقے میں خوف ودہشت اور جنگی جنون کی فضا پیدا کرنے کی بھارتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت سیکیورٹی بحران پیدا کرنے سے پہلے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے اکثر اس طرح کی مشقیں کرتا رہتاہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ تازہ ترین فوجی تعیناتی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران امریکہ کشیدگی کو کم کرنے کے لئے سفارتی کوششوںکے بعد پاکستان کی بین الاقوامی حیثیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی بی جے پی حکومت پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی ساکھ کو نقصان پہنچانے، اپنے پاکستان مخالف بیانیے کو زندہ کرنے اور کشمیر کی تحریک آزادی کو پر تشدد کی کارروائیوں سے جوڑنے کے لیے ایک اور فالس فلیگ آپریشن کی کوشش کر سکتی ہے۔سیاسی ماہرین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کنٹرول لائن اور مقبوضہ جموں و کشمیر پر کڑی نظر رکھے اور کسی بھی مشتبہ واقعے کی غیر جانبدارانہ بین الاقوامی تحقیقات کرائے۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے واقعات سے واضح ہوگیا تھا کہ کس طرح غیر مصدقہ الزامات اور بیان بازی کو مقبوضہ علاقے میں فوجی کارروائیوں کا جواز فراہم کرنے اور جنوبی ایشیا میں کشیدگی کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button