پونچھ ، راجوی میں بھارتی فوج کی غیر معمولی سرگرمیاں
کیا خطہ ایک نئے بحران کی دہلیز پر کھڑا ہے؟

ارشد میر
جنوبی ایشیا دنیا کے ان حساس ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی نہ صرف
دو ہمسایہ ایٹمی طاقتوں کے درمیان تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ، راجوری اور ملحقہ علاقوں میں بھارتی افواج کی جانب سے وسیع پیمانے پر جاری آپریشنز، مشقوں، اضافی نفری کی تعیناتی، نگرانی کے نظام کو مزید سخت بنانے اور دیگر سرگرمیوں نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ سیاسی و دفاعی مبصرین تشویش ظاہر کررہے ہیں کہ آیا یہ محض معمول کی” حفاظتی تدابیر” ہیں یا ان کے پس منظر میں کوئی وسیع تر سیاسی یا عسکری حکمت عملی کارفرما ہے۔یہ صورتحال یقننا اس خدشے کو جنم دیتی ہے کہ نئی دہلی کسی نئے فالس فلیگ آپریشن کا جال بچھانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ کشمیریوں کی جائز اور خالص آزادی کی تحریک کو دہشت گردی سے جوڑ کر اپنے جرائم چھپائے جائیں اور ساتھ ہی پاکستان کی عظمتوں کو چھوتی ساکھ کو بھی زک پہنچائی جا سکے۔
بظاہران اقدامات کا مقصد ممکنہ دراندازی یا سکیورٹی خدشات سے نمٹنا بتایا جاتا ہےتاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ان دعوؤں کی حمایت میں کوئی واضح اور قابلِ تصدیق شواہد سامنے نہیں آرہےجس کے باعث ان سرگرمیوں کے اصل مقاصد پر سوالات اٹھنا فطری امر ہےجو واضح اشارہ کرتے ہیں کہ بھارت اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرکے مقبوضہ کشمیر میں ایک خوفناک ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان مشقوں کے دوران بھارتی فوج کا ہتھیاروں اور جدید فوجی آلات، جیسے ڈرونز، سونگھنے والے کتوں اور گن شپ ہیلی کاپٹرز کا استعمال، اس کے جنگی عزم اور تیاریوں کوظاہر کرتا ہے۔ یہ سرگرمیاں اس بات کا بھی ثبوت ہیں کہ بھارت اپنی فوجی موجودگی کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ، کشمیری عوام کی آزادی کے جذبے کو کچلنے کے لیے ہر قسم کے حربے آزما رہا ہے۔
راجوری کے منجاکوٹ علاقے میں ” شیرووالی” کے نام سے پہلے ہی ایک وسیع آپریشن مسلسل آٹھ ہفتوں سے جاری ہے جواپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس آپریشن میں جدید ڈرونز، گن شپ ہیلی کاپٹرز اور جدید نگرانی کے آلات استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مئی کے آخر میں شروع کئے گئے اس آپریشن کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ گھمبیر مغلاں اور ڈوری مل کے ملحقہ جنگلی علاقہ میں دو یا تین مجاہدین موجود ہیں جنگیں ختم کرنا ہے۔ 45 دن ہوگئے ،تعداد اور اسلحہ کے اعتبار سے دنیا میں کی چوتھی بڑی فوج ان چند مجاہدین کو زیر کرنے میں کامیاب نہ ہو پائی۔
بھارتی فوج کی طرف سے مجاہدین کی موجودگی کے نام پر بڑا آپریشن شروع کرنا اور پھر ناکامی و بدنامی کا داغ اپنے ماتھے پہ سجانا، پہلی بار نہیں ہے۔ اکتوبر 2021 میں بھارتی فوج نے مینڈھر پونچھ کے جنگلی علاقہ میں اسی طرح کا ایک بڑا آپریشن شروع کیا تھا۔ جب دن ہفتوں میں بدل گئے، میڈیا اور عوامی حلقوں سے سوالات اٹھنا شروع ہوئے، فوج اور حکومت پر دباؤ بڑھ گیا تو کئی برس سے بھارتی جیل میں مقید آزاد کشمیر کے ایک شہری ضیاء مصطفیٰ کو جیل سے نکال کر مینڈھر لایا گیا اور پھر فرضی مقابلے میں شہید کرکے اعلان کیا گیا کہ آپریشن کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی یہ فوجی سرگرمیاں اور دعوے، جن میں کسی بھی واضح ثبوت کے بغیر دہشت گردی اور حملوں کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے، دراصل بھارت کی جاری حکمت عملی کا حصہ ہیں کہ کشمیری عوام کو مسلسل دباؤ میں رکھاجائے، ان کی تحریک آزادی کے بارے میں دہشت گردی کا تاثر قائم کیا جائے، مقبوضہ علاقہ میں اتنی بڑی تعداد میں فوج رکھنے کے اعتراضات کو دور کیا جائے اور پاکستان کو بدنام کیا جائے۔ بھارت کا یہ حربہ بہت پرانا اور آزمودہ ہےجس میں جھوٹے الزامات، میڈیا پروپیگنڈہ، اور فوجی طاقت کا استعمال شامل ہے۔
بھارت کی ان تازہ فوجی سرگرمیوں کے تناظر میں اہم بات یہ ہے کہ یہ ایسے وقت میں ہورہی ہیںجب دنیا میں پاکستان کی شبیہ بام عروج پہ ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران وامریکہ کے درمیان کشیدگی کم ہوئی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کا پروفائل اتنا بڑھ گیا ہے کہ امریکی صدر اور عالمی میڈیا ہی نہیں بلکہ بھارت کے بھی بہت سے مبصرین اور سیاست دان بھی جس کا تعریف کرتے ہیں ، گودی میڈیا چیخ چیخ کر حکمرانوں کو کوس رہا ہے۔ اس پس منظر میں، بھارت کی جانب سے پلوامہ اور پہلگام جیسی کسی نئی واردات کا ارتکاب کرکے پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی پذیرائی کو کمزور کرنا بعید نہیں ہے۔ اگر اس ماحول میں کوئی بڑا سکیورٹی واقعہ پیش آتا ہے تو اس کے اثرات صرف کشمیر تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات اور جنوبی ایشیا کے مجموعی امن پر بھی مرتب ہوں گے۔
بھارت ماضی میں بھی ایسے متعدد مواقع پر کشمیری عوام اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹے الزامات اور فالس فلیگ آپریشنز کا سہارا لیتا رہا ہے جن کا مقصد عالمی برادری کو یہ تاثر دے کر کہ کشمیریوں کی تحریک دہشت گردی ہے اور اسکا پشت پناہ پاکستان ہے ، پاکستان کے خلاف کسی فوجی مہم جوئی کی راہ ہموار کرنا ہے۔ یہ اسکا پرانا منصوبہ ہے تاکہ کشمیری عوام کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کو دہشت گردی کے دائرے میں لے آیا جائے اور پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی میں ڈال دیا جائے۔
تاریخ گواہ ہے کہ کشمیر میں ہر غیر معمولی فوجی سرگرمی صرف عسکری معاملہ نہیں رہتی بلکہ اس کے ساتھ سیاسی، سفارتی اور ابلاغی پہلو بھی جڑ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال کو بھی صرف ایک "سکیورٹی آپریشن” کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ اس کے ممکنہ نتائج اور اثرات پر بھی گہری نظر رکھنا ضروری ہے۔ اس نوعیت کی سرگرمیاں ماضی میں بھی ایسے حالات پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں جن کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا اور پاکستان یا کشمیری مزاحمتی تحریک کے خلاف بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی گئی۔
بدقسمتی سے جنوبی ایشیا میں اطلاعاتی جنگ بھی روایتی جنگ جتنی ہی اہم حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ کسی بھی واقعے کے فوراً بعد بھارتی گودی میڈیا کا شور شرابہ، سیاسی بیانات اور سوشل میڈیا مہمات حقیقت تک پہنچنے سے پہلے ہی عوامی رائے پر اثرانداز ہونے لگتی ہیں۔ ایسے ماحول میں غیر مصدقہ معلومات، یک طرفہ الزامات اور جذباتی بیانات نہ صرف حالات کو مزید خراب کرتے ہیں بلکہ امن کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ممکنہ واقعے کی غیر جانبدار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تحقیقات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
عالمی برادری کو اس حوالے سے زیادہ حساس اور ذمہ دار کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ا گر لائن آف کنٹرول یا مقبوضہ جموں و کشمیر میں کوئی بڑا واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی تحقیقات محض یک طرفہ بیانات کی بنیاد پر نہیں بلکہ آزاد اور غیر جانبدار بین الاقوامی طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہئیں۔ خطے میں امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ بھارت کے ٹریک ریکارڈ کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی بھی مشتبہ واقعہ کو بغیر کسی تحقیق کے الزامات میں بدلنے نہ دیا جائے۔ اس سے یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ کسی بھی فوجی یا سیاسی ہتھکنڈے کے ذریعے کشمیری عوام کے حقِ آزادی کو نقصان نہ پہنچے اور خطے میں امن قائم رہے۔
کشمیر کے مسئلے کا ایک اہم پہلو انسانی حقوق بھی ہے۔ عالمی سطح پر مختلف ادارے متعدد مرتبہ اس خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر فوجی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو مقامی آبادی کے تحفظ، آزادیِ نقل و حرکت، اظہارِ رائے اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلق خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
کشمیر گزشتہ تقریبا آٹھ دہائیوں سے جنوبی ایشیا کا سب سے حساس اور پیچیدہ تنازع ہے۔ اس تنازع نے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں متاثر کیں، دونوں ممالک کے تعلقات کو مسلسل کشیدہ رکھا اور خطے کی ترقی کو بھی نقصان پہنچایا۔ بدقسمتی سے ہر نئی عسکری کشیدگی کے بعد سب سے زیادہ متاثر کشمیری عوام ہی ہوتے ہیں۔ اضافی فوجی نفری، سرچ آپریشنز، چیک پوسٹوں کی بھرمار، نقل و حرکت پر پابندیاں اور مسلسل خوف کی فضا ایک ایسے ماحول کو جنم دیتی ہیں جہاں معمول کی زندگی تقریباً مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔
پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ یہی حقیقت ہر قسم کی عسکری سرگرمی کو مزید حساس بنا دیتی ہے۔ سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف دونوں ممالک ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے امن، معیشت، تجارت اور ترقی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ دنیا اس وقت پہلے ہی متعدد عالمی تنازعات، اقتصادی بحرانوں اور انسانی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہےاس لیے جنوبی ایشیا میں کسی نئے بحران کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔
اس تمام صورتحال میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا خطے کے مسائل کا حل مزید فوجی اقدامات میں پوشیدہ ہے یا سیاسی بصیرت، سفارت کاری اور مذاکرات میں؟ گزشتہ کئی دہائیوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ طاقت کے استعمال سے نہ تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوا اور نہ ہی خطے میں مستقل امن قائم ہو سکا۔ ہر نئی کشیدگی نے صرف نفرت، عدم اعتماد اور انسانی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے برعکس جہاں بھی مذاکرات، اعتماد سازی اور سفارتی رابطوں کو موقع ملا، وہاں کشیدگی میں کسی نہ کسی حد تک کمی ضرور آئی۔
جنوبی ایشیا کے تقریباً دو ارب عوام میں سے بیشترامن، ترقی، روزگار، تعلیم اور خوشحالی کے خواہاں ہیں۔ انہیں جنگی ماحول، مستقل کشیدگی اور عدم استحکام کی نہیں بلکہ اعتماد، مکالمے اور تعاون کی ضرورت ہے۔ اگر پونچھ، راجوری اور کنٹرول لائین کے قریب دیگر علاقوں میں جاری بھارتی فوجی سرگرمیوں کے بارے میں پیدا ہونے والے خدشات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو یہ صرف ایک سرحدی مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے ایک نئے امتحان کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہر ممکن اقدام شفافیت، ذمہ داری اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اٹھایا جائے۔ اگر واقعی خطے میں امن مطلوب ہے تو طاقت کے مظاہرے کے بجائے اعتماد سازی، سفارتی رابطوں، حقیقت پر مبنی تحقیقات اور مسئلہ کشمیر کے استصواب رائے کی بنیاد پر حل کی طرف پیش رفت ہی وہ راستہ ہے جو جنوبی ایشیا کو ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل دے سکتا ہے۔





