بھارت : رکن پارلیمنٹ کا اترپردیش میں جوہر یونیورسٹی کو نشانہ نہ بنانے کا مطالبہ

لکھنو: بی جے پی کے زیر اقتداربھارتی ریاست اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ محب اللہ ندوی نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے اور یہ کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیمی مراکز کی حفاظت کرے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رام پور میں تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محب اللہ ندوی نے سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان کی طرف سے قائم کی گئی محمد علی جوہر یونیورسٹی کی حمایت کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے،جوہر یونیورسٹی بڑی محنت سے بنائی گئی ہے اور ایسے اداروں کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان کا بیان ٹیکس حکام کی جانب سے جوہر ٹرسٹ کے خلاف حالیہ کارروائی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اس کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی ہے۔ ندوی نے زور دیا کہ کسی بھی تحقیقات کو منصفانہ اور قانون کے مطابق کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ طلباء اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ جوہر یونیورسٹی کے خلاف بار بار کی جانے والی قانونی اور انتظامی کارروائیاں مسلمان رہنماو¿ں کے ناموں سے منسوب اداروں کو چن چن کر نشانہ بنانے کے رحجان کی عکاسی کرتی ہیں جس سے تعلیمی خود مختاری اور اقلیتوں کے زیر انتظام تعلیمی اداروں کے ساتھ امتیازیسلوک پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔







