بھارت

اسلامک کلچرل سینٹر کی مودی کو ناروے کے اعلیٰ اعزاز سے نوازنے کے فیصلے پر کڑی تنقید

اوسلو:ناروے کے اسلامک کلچرل سینٹر نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ”گرینڈ کراس آف دی رائل نارویجین آرڈر آف میرٹ”سے نوازنے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے "ناروے کے انسانی حقوق کے تشخص کے لیے ایک سیاہ دن” قرار دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ناروے کے اخبارUtropمیں 6جولائی 2026کو”نریندر مودی کیلئے ایوارڈ پر اسلامک کلچر سینٹر کا ایوارڈ : ناروے کے انسانی حقوق کے تشخص کے لیے ایک سیاہ دن”کے عنوان سے شائع ہونے والے مضمون میں کہاگیا ہے کہ آئی سی سی کے ایک نمائندے مسٹر زمران نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وزیر اعظم مودی کو اعلیٰ ریاستی اعزاز سے نوازنے کا فیصلہ یہ تاثر دیتا ہے کہ سفارتی اور معاشی مفادات کو انسانی حقوق اور جمہوری اقدار پر فوقیت دی جا رہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال مئی میں نریندر مودی کے دورہ ناروے کے بعد بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، صحافتی آزادی پر پابندیوں اور اقلیتوں کے خلاف ریاستی اقدامات کے حوالے سے ایک نئی بحث نے جنم لیاہے ۔اسلامک کلچر سینٹر نے متعدد بین الاقوامی تحقیقی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہV-Dem Instituteنے اپنی رپورٹ میں بھارت کو "انتخابی آمریت قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق مختلف علمی مطالعات اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ آر ایس ایس کاہندو قوم پرستانہ نظریہ ریاستی اداروں میں بتدریج زیادہ گہری جڑیں پکڑ رہا ہے۔تنظیم نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی ان رپورٹس کا بھی حوالہ دیا جن میں بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں مذہبی اقلیتوں، صحافیوں، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کے خلاف بڑھتے ہوئے دبائو، امتیازی سلوک اور پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔اسلامک کلچر سینٹر کے نمائندے، مسٹر زمران نے واضح کیا کہ ان کی تنقید بھارت یا بھارتی عوام کے خلاف نہیں بلکہ بھارتی حکومت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناروے کو وزیرِ اعظم نریندر مودی کو اعلیٰ ریاستی اعزاز دینے کے بجائے انسانی حقوق سے متعلق خدشات کو زیادہ موثر اور دوٹوک انداز میں اٹھانا چاہیے تھا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button