بھارت کو یورینیم کی فراہمی ایک خطرناک بدمعاش کو مہلک ہتھیار تھمانے کے متراد ف ہے، گرینز پارٹی

کینبرا: آسٹریلوی گرینز نے پارٹی نے ملکی وزیر اعظم انتھونی البانیز کی طرف سے بھارت کے ساتھ یورینیم کی برآمد کے انتظامی معاہدے پر دستخط کی شدید مذمت کی ہے۔ گرینز پارٹی نے معاہدے کو "خالص پاگل پن” قرار دیتے ہوئے کہا ک اس سے عالمی جوہری خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
کشمیر میڈیاسرس کے مطابق آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان میلبورن میں ہونے والی ملاقات میں اس معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔ اس کے تحت آسٹریلیا بھارت کو بجلی کی پیداوار اور توانائی کے حصول کے لیے یورینیم فراہم کرے گا۔
گرینز کا موقف ہے کہ بھارت نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاو کے معاہدے (این پی ٹی) اور جامع جوہری تجربات پر پابندی کے معاہدے (سی ٹی بی ٹی) پر دستخط نہیں کیے ہیں لہذا اس ڈیل سے بھارت کو اپنے ملکی یورینیم کو جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ مل سکتی ہے۔
آسٹریلوی گرینز نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ آسٹریلیا کا فراہم کردہ یورینیم بالواسطہ طور پر خطے میں جوہری عدم استحکام کا باعث بنے گا اور پاکستان جیسے پڑوسی ممالک کے لیے سیکیورٹی کے نئے خطرات پیدا کرے گا۔
آسٹریلیا کی تیسری سب سے بڑی سیاسی جماعت گرینز نے مزید کہا کہ بھارت یورینیم کی چوری اور اسمگلنگ کے واقعات کی بھی تاریخ رکھتا ہے جس سے جنوبی ایشیا کے 1.7 بلین سے زائد افراد کو خطرہ لاحق ہے۔

پارٹی نے 1994 سے رواں برس تک بھارت کے مختلف شہروں میں پیش آنے والے چوری کے واقعات کا حوالہ دیا دیتے ہوئے کہا کہ تین دہائیوں میں سینکڑوں کلوگرام جوہری مواد چور ی کیا گیا۔ گرینز نے مارچ 2022 میں بھارت کی جانب سے جوہری صلاحیت کے حامل براہموس میزائل کے پاکستان کی طرف”حادثاتی” فائرکا بھی حوالہ دیا اور اسے انتہائی لاپرواہی اور غیر پیشہ وارانہ عمل قرار دیا۔گرینز پارٹی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بھارت کو یورینیم کی فراہمی کا معاہدہ فوری طور پر ختم کرے کیونکہ یہ ایک خطرناک بدمعاش کو مہلک ہتھیار تھمانے کے مترادف ہے۔






