بھارتی حکومت کشمیریوں کو مسلسل وحشیانہ کارروائیوں کا نشانہ بنا رہی ہے، حریت کانفرنس
آزادی پسند کشمیر ی ظلم و جبر کے ہتھکنڈو ں سے ہرگز مرعوب نہیں ہونگے، ترجمان

سری نگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بی جے پی کی ہندو توا بھارت حکومت نے مقبوضہ علاقے کی مسلم آبادی کے خلاف وحشیانہ کارروائیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور وہ خوف ودہشت کی کارروائیوں کے ذریعے علاقے کے مسلمانوں کو زیر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فورسز اور بدنام زمانہ تحقیقاتی اداروں ”نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ( این آئی اے ) ، سٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی ( ایس آئی اے ) ، انفورسمنٹ ڈائریکٹویٹ (ای ڈی ) وغیرہ نے مقبوضہ علاقے کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپو ں کابلاجواز سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس سے مقامی آبادی گونا گوں مشکلات و مصائب سے دوچار ہے۔ انہوںنے کہا کہ قابض فورسز اہلکار اور تحقیقاتی اداروں کی ٹیمیں گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں سمیت مکینوں کو ہراساں اور قیمتی گھریلو اشیاءکی لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کررہے ہیں۔
انہوںنے کہا کہ بے لگام بھارتی فورسز اہلکار علاقے میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔کشمیری مسلمانوں کے گھروں ، زمینوں اور دیگر جائیدادوں کو مسلسل ضبط کیا جا رہا ہے ، کشمیری نوجوانوں کو بلاجواز گرفتار اور تھانوں اور کیمپوں میں طلب کر کے ہراساں کیا جا رہاہے۔
حریت کانفرنس کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی حکومت کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ جبر واستبداد کے ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کو ہرگز مرعوب نہیں کرسکتی اور وہ شہداءکے عظیم مشن کی تکمیل تک اپنی جدوجہد ہر قیمت پر جاری رکھیں گے۔
ترجمان نے کہا کہ دس لاکھ سے زائد بھارتی فورسز اہلکاروں نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے ، بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم پر بھارت کو جواب دہ ٹھہرائے ۔انہوںنے اقوام متحدہ پر بھی زوردیا کہ وہ تنازعہ کشمیرکو اپنی پاس کردہ قراردادوںکے مطابق حل کرانے کے لیے کردار ادا کرے۔







