براہموس میزائل سے متعلق بھارتی دعوے بار بار کی تکنیکی ناکامیوں سے بے نقاب
نئی دلی: بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل(ر)جوگیندر جسونت سنگھ کی جانب سے براہموس میزائلکی صلاحیتوں سے متعلق کیے گئے دعوئوں پر تجزیہ کاروں نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میزائل کی عملی کارکردگی اور تکنیکی ریکارڈ ان دعوئوں کے برعکس ہیں ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابقتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی جنرل کے دعوے براہموس میزائل کی بارہا آزمائشی ناکامیوں، پروپلشن سسٹم کی خرابیوں اور مارچ 2022 میں میزائل کے حادثاتی طور پر پاکستان کے شہر میاں چنوں میں گرنے کے واقعے سے متصادم ہیں، جس نے بھارت کے اپنے اسٹریٹجک ہتھیاروں پر مکمل کنٹرول کی صلاحیت پر سوالات کھڑے کر دیے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ درست نشانہ بنانے کی صلاحیت کے بجائے سنگین غفلت کا مظہر تھا، جو دونوں ہمسایہ جوہری طاقتوں کے درمیان ایک بڑے فوجی بحران کا سبب بن سکتا تھا۔مبصرین کے مطابق روس سے نامکمل ٹیکنالوجی کی منتقلی پر بھارت کا انحصار ایسے دفاعی نظام کو جنم دیتا ہے جو مبالغہ آمیز دعوئوں پر تو قائم ہے، مگر مکمل تکنیکی خودمختاری اور قابل اعتماد صلاحیت سے محروم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق بھارتی فوجی حکام کی اس نوعیت کی جنگجویانہ بیان بازی حقیقی دفاعی طاقت کے بجائے اشتعال انگیز خود اعتمادی کی عکاس ہے، جو خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔تجزیہ کاروں نے واضح کیاکہ براہموس پروگرام گزشتہ برسوں کے دوران متعدد تکنیکی ناکامیوں کا شکار رہا ہے، جن میں 2009میں پوکھران میں بلاک۔IIآزمائش کے دوران ہدف کی شناخت کے نظام میں خرابی، 2012کی ترقیاتی آزمائش میں ذیلی نظاموں کی ناکامی، 2015کی آزمائش میں تکنیکی مشکلات اور جولائی 2021میں اوڈیشہ کے ساحل سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کی آزمائش کے دوران پروپلشن سسٹم کی خرابی کے باعث لانچ کے فورا بعد میزائل کا گر جانا شامل ہے۔ان کے مطابق سب سے سنگین واقعہ مارچ 2022 میں پیش آیا، جب جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا برہموس سپر سونک کروز میزائل حادثاتی طور پر بھارت سے فائر کیا گیا اور پاکستان کے شہر میاں چنوں کے قریب جا گرا، جس سے بھارت کے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کی سنگین خامیاں بے نقاب ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام واقعات مجموعی طور پر میزائل پروگرام میں مسلسل تکنیکی اور طریقہ کار سے متعلق کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلند بانگ دعوئوں میں براہموس میزائل کی ناکام آزمائشوں، پروپلشن سسٹم کی خرابیوں، ہدف کی شناخت کے مسائل اور 2022میں پاکستان میں حادثاتی طور پر میزائل گرنے جیسے حقائق کو نظر انداز کرتے ہیں۔بھارت اور روس کے درمیان دفاعی تعاون پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا کہ بھارت کو روسی ٹیکنالوجی تک صرف جزوی رسائی حاصل ہے اور وہ مکمل تکنیکی مہارت حاصل نہیں کر سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز تک ایسی کسی عوامی طور پر تصدیق شدہ مفاہمتی یادداشت یا معاہدے کا وجود نہیں جو براہموس پروگرام کی مکمل ٹیکنالوجی کی منتقلی کی ضمانت دیتا ہو۔انہوں نے کہا کہ روس شاذ و نادر ہی اپنی مکمل ٹیکنالوجی، پیٹنٹس، سورس کوڈز یا مکمل تکنیکی ڈیزائن بھارت کو منتقل کرتا ہے۔ اس کے برعکس بھارت کو عموما لائسنس یافتہ پیداوار، محدود مینوفیکچرنگ معلومات، دیکھ بھال اور جدیدکاری تک محدود ٹیکنالوجی کی منتقلی حاصل ہوتی ہے۔تجزیہ کاروں نے مزید کہا کہ انڈیا۔روس بین الحکومتی کمیشن برائے عسکری و دفاعی تکنیکی تعاون اور دفاعی تعاون کے معاہدے مشترکہ منصوبوں، مشترکہ پیداوار، جدیدکاری اور محدود ٹیکنالوجی کی منتقلی کی حمایت کرتے ہیں، تاہم ان میں مکمل ٹیکنالوجی، پیٹنٹس، سورس کوڈز یا جامع تکنیکی ڈیزائن کی منتقلی کی کوئی شق شامل نہیں۔انہوں نے کہا کہ براہموس، ایس یو-30 ایم کے آئی اور ایس-400 جیسے پروگراموں میں بھی بھارت کو صرف جزوی تکنیکی رسائی حاصل ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اس قسم کی جارحانہ بیان بازی دفاعی طاقت کے اظہار کے بجائے خطے میں کشیدگی کو ہوا دیتی ہے۔ ان کے مطابق براہموس ایک مشترکہ بھارت-روس منصوبہ ہے، نہ کہ بھارت کی مکمل مقامی دفاعی صلاحیت کی علامت۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق بھارتی جرنیلوں کے کھوکھلے دعوے دراصل بھارت کے میزائل پروگرام کی بنیادی اور نظامی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہیں۔







