مقبوضہ کشمیر:متعدد کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط

سرینگر:بی جے پی کی بھارتی حکومت نے غیر قانونی طور پر شیرقبضہ جموں و کشمیر میں متعدد کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کر لی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے بی جے پی کے لیفٹیننٹ گورنر منہاج سنہا کی ہدایت پر عدنان لطیف شیخ، دانیال احمد اور عادل احمد میر کے رہائشی مکانات سمیت متعد املاک ضبط کرلی ہیں ۔مقامی عدالت کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں پولیس یا لیفٹیننٹ گورنر کے تحت مقرر کردہ حکام کی اجازت کے بغیر ان جائیدادوں کی فروخت، لیز یا کسی بھی قسم کی لین دین پر پابندیاں عائد کی گئی ہے۔یہ اقدام بی جے پی حکومت کی اس وسیع ترمہم کا حصہ ہے جس کا مقصد کشمیریوں کی معاشی طورپر کو کمزور کرنا اورانکے جذبہ حریت کو دبانا ہے ۔جس کا وعدہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے عالمی برادری نے ان سے کیا ہے۔اگست 2019میں بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی غیر قانونی طور پر منسوخی کے بعد سے، بھارتی حکومت مختلف حیلے بہانوںسے سینکڑوں کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کر چکی ہے۔ یہ جاری مہم بڑے پیمانے پر کشمیریوں کو معاشی طور پر غیر مستحکم کرنے اور غیر کشمیریوں کو آباد کرکے مقبوضہ علاقے کی آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔
ادھر بھارتی فورسز نے ضلع بارہ مولہ کے علاقے بگنا بجھاما اوڑی میں محاصرے اور تلاشی کارروائی کے دوران متعدد گھروں میں زبردستی داخل ہو کر مکینوں کو ہراساں کیا ۔



