مقبوضہ جموں و کشمیر

خود کوبھارتی تحقیقاتی اداروں کے اہلکار ظاہر کرنے والے افراد نے بزرگ شہری سے30 لاکھ روپے اینٹھ لئے

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میںخود کو بھارتی تحقیقاتی اداروں کے اہلکار ظاہر کرنے والے افراد نے ایک بزرگ شہری کو 30 لاکھ روپے سے زائد کی رقم سے محروم کر دیاجس سے مظلوم کشمیریوں کے بڑھتے ہوئے استحصال کی عکاسی ہوتی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مقامی پولیس کی اسپیشل کرائم برانچ نے بھتہ خوری کے کیس کے سلسلے میں سرینگر اور گاندربل اضلاع میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے اور تلاشی لی۔تحقیقاتی ادارے نے اعتراف کیا کہ ملزمان خود کو کرائم برانچ اور اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) کے اہلکار ظاہر کرتے ہوئے ایک منظم گینگ چلارہے تھے جو بزرگ شہریوں کو من گھڑت مقدمات، گرفتاریوں اور قانونی کارروائی کی دھمکیاں دے کر ان سے بڑی بڑی رقوم بٹوررہے تھے۔ادارے کا کہنا ہے کہ چار افراد اس دھوکہ دہی میں ملوث ہیں اور انہوں نے سرینگر شہر میں رہنے والے ایک بزرگ شہری سے 30 لاکھ روپے سے زائد رقم بٹوری تھی۔اس واقعے سے عام کشمیریوں بالخصوص بزرگ شہریوں کے بڑھتے ہوئے استحصال پر شدید تشویش پیدا ہوئی ہے جنہیں جرائم پیشہ افرادپولیس کارروائی اورتحقیقاتی اداروں کے خوف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نشانہ بنارہے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات لوگوں میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کی عکاسی کرتے ہیں جہاں معصوم لوگوں کا مالی استحصال کرنے کے لیے ڈرانے دھمکانے کے ہتھکنڈے اور سرکاری شناخت کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے شہریوں کو فراڈ کے منظم نیٹ ورکس کا شکار بننے سے روکنے کے لیے جوابدہی ا ور موثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button