تحریر: ارشد میر

بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں حکام نے اسکولوں، کالجوں اور سرکاری لائبریریوں میں موجود کتابوں کے وسیع پیمانے پر آڈٹ کا آغاز کر دیا ہے تاکہ ایسے مواد کو ہٹایا جا سکے جو کشمیر پر بھارت کے دعوے پر سوال اٹھاتا ہو۔ ممتازعالمی نشریاتی ادارہ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے اس اقدام کو "مضحکہ خیز” اور”یادداشت کُشی (Memoricide)” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد کشمیر کی تاریخ اور اجتماعی یادداشت کو مٹانا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 9 جولائی کو جاری کیے گئے ایک سرکاری حکم نامے میں تمام تعلیمی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کتابوں، جرائد، تحقیقی مقالات، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالہ جات سمیت تمام ڈیجیٹل مواد کا جائزہ لیں۔ حکام نے ایسے مواد کی نشاندہی کرنے کا حکم دیا ہے جسے وہ "قابلِ اعتراض” قرار دیتے ہیں، خصوصاً وہ تحریریں جو ان کے بقول علیحدگی پسندی، انتہاپسندی یا بھارت کی خودمختاری کو چیلنج کرتی ہوں۔ اس کے ساتھ یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ تحقیقات کی جائیں کہ ایسی کتابیں اور مواد سرکاری و تعلیمی لائبریریوں تک کیسے پہنچا؟ ہندوتوا شر پسندوں کے اعتراضات کے مطابق ان کتابوں میں ممتاز حریت رہنماؤں، محمد مقبول بٹ، سید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ، مسرت عالم بٹ، میرواعظ عمر فاروق اورمولوی محمد فاروق کے حالات زندگی اورسیاسی نظریات پر ابواب شامل ہیں،یہاں تک کہ مقبول بٹ کو شہید قرار دیا گیا ہے۔ یاداشت کشی کی یہ مہم اس وقت شروع کی گئی جب بی جے پی اور دیگر ہنوتوا عناصر کے ذریعہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی کتاب "Personalities and Legends of J&K” اورسشانت گیری کی کتاب "Great Personalities of Jammu and Kashmir” پراعتراضات اٹھوائے گئے اور حکومت پر جعلی دباؤ قائم کرتے ہوئے اس فسطائی کاروائی کے لئے راہ ہموار کی گئی۔ اس ضمن میں بی جے پی کے رہنماء سنیل شرما نے کئی شرارت انگیز بیانات داغ دئے اور مذکور ہ کتب کو”اکیڈمک جہاد” قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ قابض حکام کو بس بہانہ یا جواز چاہئے تھا چنانچہ انھوں نے فوری کاروائی کرتے ہوئے 4 جولاائی کو اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک پرنسپل اور چار لیکچرارز سمیت آٹھ افسران کو لائبریری کے لیے مذکورہ کتب کی منظوری اور خریداری کے معاملے پر معطل کر دیا۔ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے "سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہ کرنے” کا مظاہرہ کیا اور ایسی کتابوں کی سفارش کی جن میں، انتظامیہ کے بقول، "انتہائی نامناسب مواد” شامل تھا۔
قابل ذکر ہے کہ قابض انتظامیہ ہی نے سَمَگراشکشاپروگرام کے تحت 18 ہزار 328 سرکاری اسکولوں کے لیے عمر کے مطابق کتابیں خریدنے کی غرض سے ماہرینِ تعلیم پر مشتمل چار ذیلی کمیٹیاں تشکیل دے کر دلچسپی رکھنے والے ناشرین سے کتابیں طلب کی تھیں۔ مذکورہ کمیٹیوں نے ناشرین کی جانب سے پیش کی گئی کتابوں کا جائزہ لیا اور مختلف جماعتوں کے لیے 463 کتابوں کی سفارش کی تھی جسے بعد ازاں قابض حکام نے منظوری دی۔ یہاں تک کہ جن دو کتب پر بعد ازاں اعتراض کیا گیا ان میں سے ایک کی 123 کاپیاں جموں، رام بن اور ادھم پور اور دوسری کی 128 کاپیاں جموں اور بارہمولہ کے اسکولوں کو فراہم کی جا چکی تھیں۔
ابتدا میں یہ کارروائی صرف اسکولوں کی لائبریریوں تک محدود تھی تاہم بعد میں اس کا دائرہ یونیورسٹیز کے تحقیقی مقالوں، علمی اشاعتوں اور ڈیجیٹل وسائل تک بھی وسیع کر دیا گیا۔ نام نہاد لیفٹیننٹ گورنر کی زیر قیادت ہندو فسطائی انتظامیہ نے 4 جولائی کو ہی اپنے حکمنامے میں اعتراض کردہ دونوں کتابوں کے مصنفین اور ناشرین پر پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں بلیک لسٹ کرنے اور ان کی تمام مطبوعات مقبوضہ علاقے سے واپس لانے کا بھی حکم دیا تھا۔ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی کتاب "Personalities and Legends of J&K” کو اوبرائے بک سروس جموں جبکہ سشانت گیری کی کتاب” “Great Personalities of Jammu and Kashmir کوانوراگ پرکاشن نئی دہلی نے شائع کیا تھا۔ حکم نامے کے مطابق عمل کرتے ہوئے کاؤنٹر انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے 12 جولائی کو چھاپے مارتے ہوئے اوبرائے بک سروس کے اندرپال اور نوئڈا میں قائم ڈومیننٹ پبلشرز کے امر دیپ سنگھ اور گریش اروڑا نامی تین افراد کو گرفتار کر لیا۔ ان کے خلاف کاؤنٹر انٹیلی جنس یونٹ نے 4 جولائی کو ہی بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جن میں جرم میں معاونت، مجرمانہ سازش، بھارت کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنا، دشمنی اور نفرت کو فروغ دینا اور جھوٹے بیانات، افواہیں یا گمراہ کن معلومات شائع یا پھیلانا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالےقانون (یو اے پی اے) کی دفعہ 13 بھی مقدمے میں شامل کی گئی۔
اس مہم نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دانشور حلقےمیں بطورخاص سخت تشویش پیدا کر دی ہے۔ ایک سینئر کشمیری صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر الجزیرہ کو بتایا کہ اب "کشمیر کی تاریخ کے بارے میں لکھنا یا پڑھنا بھی خطرے سے خالی نہیں رہا۔” سرینگر کے ایک کتاب فروش کا کہنا تھا کہ دکاندار اس غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں کہ "کس کتاب کو ملک دشمن قرار دیا جائے گا اور کس کو قومی مفاد کے مطابق سمجھا جائے گا۔”
یاد رہےگزشتہ سال بھی حکام نے اے جی نورانی، سمنترا بوس اور اروندھتی رائے سمیت مختلف مصنفین کی 25 کتابوں پر پابندی عائد کی تھی اور کتابوں کی دکانوں پر چھاپے مار کر انہیں ضبط کیا تھا۔ اسی دوران پولیس نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تصنیف کردہ 668 کتابیں بھی قبضے میں لے لی تھیں۔
مصنفین اور ماہرین نے اس تازہ آڈٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ معروف صحافی اور مصنفہ انورادھا بھسین جاموال نے اسے "دہشت پیدا کرنے اور مطالعے کو جرم بنانے کی کوشش” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کتابیں بم نہیں ہوتیں۔ سیاسیات کے ماہر سمنترا بوس، جن کی دو کتابیں گزشتہ سال ممنوع قرار دی گئی تھیں، نے اس حکم کو "مضحکہ خیز” قرار دیا۔ جبکہ کشمیری ماہرِ بشریات محمد جنید نے اس اقدام کو "یادداشت کُشی” (Memoricide) قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ماضی کے حقائق کو مسخ کرنے اور کشمیریوں کے اپنے تاریخی تجربات کے بارے میں شعور کو زبردستی تبدیل کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔
2019ء میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اسے براہِ راست نئی دہلی کے زیرِ انتظام لانے کے بعد سے انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل خبردار کرتی چلی آرہی ہیں کہ علاقے میں قابض بھارتی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی آزادی، ذرائع ابلاغ اور سیاسی اظہارِ رائے پر پابندیاں بھی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہیں۔یہ ہتھکنڈے نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارتی قابضین ظلم و جبر اور زبان بندی کے تمام تر ہتھکنڈے آزمانے کے باوجود مقبوضہ جموں و کشمیر کے تاریخی حقائق اورعوام کے جذبات سے ہم آہنگ سیاسی بیانیہ سے خوفزہ ہیں۔
کتابوں پر پابندیاں، تاریخ کو ازسرِنو لکھنے کی کوششیں، مصنفین اور اساتذہ کو سزائیں اور لائبریریوں پر چھاپے کسی بھی پراعتماد اور جمہوری معاشرے کی علامت نہیں ہوتے بلکہ وہ ان ریاستوں کی پہچان ہوتے ہیں جو دلیل سے نہیں، طاقت سے اپنے بیانیے کو مسلط کرنا چاہتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ نہ کتابیں ضبط کرنے سے خیالات مٹتے ہیں، نہ قلم توڑنے سے سچ دفن ہوتا ہے اور نہ ہی اجتماعی یادداشت کو سرکاری احکامات کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ کشمیری عوام کی تاریخ، شناخت اور سیاسی شعور کسی ایک کتاب، ایک لائبریری یا چند مصنفین تک محدود نہیں بلکہ یہ دہائیوں پر محیط ایک زندہ اجتماعی تجربہ ہے جسے سنسرشپ، بلیک لسٹنگ یا خوف کے ذریعے مٹایا نہیں جا سکتا۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری "یادداشت کُشی” کی یہ مہم صرف کشمیریوں کے خلاف نہیں بلکہ علم، تحقیق، اظہارِ رائے اور انسانی تہذیب کی مشترکہ اقدار کے خلاف بھی ایک کھلا حملہ ہے۔ سچائی کو کتابوں سے نہیں، تحقیق سے پرکھا جاتا ہے۔ اختلافی بیانیوں کا جواب پابندیوں سے نہیں بلکہ مکالمے، دلیل اور علمی مباحث سے دیا جاتا ہے۔ یہی ایک مہذب، جمہوری اور باشعور معاشرے کی پہچان ہے اور تاریخ کا فیصلہ بھی ہمیشہ اسی اصول کے حق میں آیا ہے۔






