کشمیری عوام کو غیر معینہ مدت تک انتظار نہیں کرایا جا سکتا، فاروق عبداللہ

نئی دہلی:نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے بھارتی حکومت پرزوردیاہے کہ وہ غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق اپنے وعدے پورے کرے کیونکہ کشمیری عوام کو غیر معینہ مدت تک انتظار نہیں کرایا جا سکتا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نئی دہلی میں پارٹی احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے سینکڑوں پارٹی رہنمائوں اور کارکنوں کے ہمراہ جنتر منتر کی جانب مارچ کیا ۔انہوں نے کہا کہ وہ نئی دلی میں کسی سیاسی رعایت کے لیے نہیں بلکہ بھارت کو اس کے وعدے یاد دلانے کے لیے جمع ہوئی ہے جو اس نے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے حوالے سے کیے تھے۔بھارتی پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آغاز کے موقع پر ہونے والے اس احتجاج میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، کابینہ وزرا، ارکان پارلیمنٹ، اراکین اسمبلی اور پارٹی کے سینئر رہنمائوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ریاستی حیثیت کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔دہلی پولیس نے نیشنل کانفرنس کے مارچ کو جنتر منتر پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا۔ نیشنل کانفرنس نے الزام عائد کیا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پابندیاں عائد کی گئیں اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس صرف ایک مقصد کے لیے نئی دلی آئی ہے اور وہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق، وقار اور عزت کی بحالی ہے۔انہوں نے کہاکہہم مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ کوئی نیا مطالبہ نہیں، بلکہ وہ وعدے ہیں جو نریندر مودی اور بھارتی وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور جموں و کشمیر کے عوام کے سامنے کیے تھے۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان وعدوں کو پورا کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ جموں و کشمیر کے عوام کے جمہوری حقوق اور سیاسی وقار سے متعلق ہے۔ کشمیری عوام نے صبر کا مظاہرہ کیا اور اس امید کے ساتھ جمہوری عمل میں حصہ لیا کہ ان سے کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں گے، اس امید کو ٹوٹنے نہیں دینا چاہیے۔بھارتی سپریم کورٹ کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ عدالت عظمی نے بھی اس عمل کو جلد مکمل کرنے کی توقع ظاہر کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے خود سپریم کورٹ کے سامنے یقین دہانی کرائی تھی اور اب اسے ان وعدوں کے مطابق اقدامات کرنے چاہئیں۔







