بھارت

نئی دہلی : طلبہ کے احتجاج کے دوران بھارتی کی طرف سے فورسز پیلٹ گن کا استعمال ،متعدد افراد زخمی

نئی دہلی: بھارت میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے دوران دہلی میں بھارتی فورسز کی کارروائی کے بعد پیلٹ گن کے مبینہ استعمال سے متعلق رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ نئی دلی میں جنتر منتر کے مقام پر پیر کو بھارتی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ایک صحافی اور متعدد مظاہرین کے پیلٹ لگنے سے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہو ئی ہیں ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، جنتر منتر کے قریب احتجاج کی کوریج کرنے والے آئوٹ لک انڈیاکے ایک رپورٹر نے دعوی کیا کہ جھڑپوں اور آنسو گیس کی شیلنگ کے دوران انہیں پیلٹ لگے۔ رپورٹر کے مطابق وہ محفوظ مقام پر جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کے بازو اور بیگ پر چھرے لگے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کے جسم پر چھرے لگنے کی وجہ سے متعدد زخم آئے ہیں جو۔اطلاعات کے مطابق25سالہ مظاہر شیخ ارشاد منصوری کو لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج منتقل کیا گیا، جہاں سرجری کے دوران ان کے چہرے سے متعدد چھرے نکالے گئے، جبکہ گردن میں خون کی بڑی شریان کے قریب موجود ایک چھرہ نہیں نکالا جا سکا۔ ایک اور زخمی نوجوان کو، جسے مبینہ طور پر گولی لگی تھی، علاج کے لیے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیاگیاہے۔دوسری جانب دہلی پولیس نے پیلٹ گن کے استعمال کی خبروں کو "جھوٹا اور گمراہ کن” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران پولیس کے پاس نہ تو پیلٹ گنیں موجود تھیں اور نہ ہی ان کا استعمال کیا گیا۔تاہم بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کارروائی میں دہلی پولیس کے ساتھ تعینات ریپڈ ایکشن فورس کے پاس مظاہرین کو کنٹرول کرنے کیلئے استعمال کئے جانیوالے ہتھیاروں میں پیلٹ گنیں بھی موجود ہوتی ہے۔واقعے کے بعد وکلا کی جانب سے بھارتی سپریم کورٹ میں پولیس کی کارروائی کے خلاف فوری سماعت کی درخواست بھی دائر کی گئی، تاہم عدالت نے فوری سماعت سے انکار کر دیاہے۔یاد رہے کہ طلبہ تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف 20جولائی کو "سنسد چلو” مارچ کے دوران مظاہرین اوربھارتی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ پیلٹ گن نما ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کے دعوئوں کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے اس واقعے کی آزادانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔بھارت میں اس سے قبل بھی مختلف احتجاجی مظاہروں کے دوران مہلک پیلٹ گنوں کے استعمال کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، جن میں 2024کے کسان احتجاج اور 2023کے منی پور فسادات شامل ہیں۔ اسی طرح مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی ماضی میں مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنوں کے استعمال سے ہزاروں افراد کی جزوی یامکمل بینائی سے محرومی پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button